اسلام آباد ۔5 اکتوبر (اے پی پی): انٹرنیشنل پالیسی سنٹر فار انکلوسیو گروتھ آئی پی سی ، آئی جی کی جانب سے منعقدہ گلوبل کانفرنس میں پاکستان کے کرونا سوشل پروٹیکشن ریلیف رسپانس کو ایشیائ کے تمام ممالک میں بہترین قرار دیا گیا۔ یونیسیف، اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل پالیسی سنٹر کی جانب سے ایشائی ممالک کے کوڈ۔19 رسپانس کے حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق میں وسیع میپنگ کے …
گلوبل کانفرنس میں پاکستان کے کرونا سوشل پروٹیکشن ریلیف رسپانس کو ایشیائ کے تمام ممالک میں بہترین قرار دیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔5 اکتوبر (اے پی پی): انٹرنیشنل پالیسی سنٹر فار انکلوسیو گروتھ آئی پی سی ، آئی جی کی جانب سے منعقدہ گلوبل کانفرنس میں پاکستان کے کرونا سوشل پروٹیکشن ریلیف رسپانس کو ایشیائ کے تمام ممالک میں بہترین قرار دیا گیا۔ یونیسیف، اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل پالیسی سنٹر کی جانب سے ایشائی ممالک کے کوڈ۔19 رسپانس کے حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق میں وسیع میپنگ کے ذریعے ایشیائ اور پیسفک ریجن کے ممالک کے کرونا وبا کے دوران لیے جانے والے اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا۔ مجوزہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے احساس ایمرجنسی کیش کے ذریعے ایشیا میں سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر سماجی تحفظ کا پروگرام کیا۔ میرینا اندرادے کے مطابق افغانستان میں مختلف ہیومنٹیرین انٹررونشنز شامل رہی ہیں اس لحاظ سے پاکستان کا نمبراس تحقیقی فہرست میں سب سے اوپر آتا ہے۔ مزید برآں مجموعی طور پرساوتھ ایشائی ممالک کا کوڈ۔ 19 سوشل پروٹیکشن رسپانس دیگر ایشائی ممالک سے بہتر تھا۔ کوریج کے لحاظ سے پاکستان،ٹیمور لیستی، ٹیوالو اور سری لنکا نے سماجی تحفظ کے پروگراموں سے مستفید ہونے والوں کی تعداد بڑھانے کے سلسلے میں کئی اہم اقدامات لیے۔ سماجی تحفظ تنظیم، انٹر نیشل پالیسی سنٹر فار انکلوسیو گروتھ آئی پی سی ، آئی جی کا سماجی تحفظ کااہم فورم ہے جسے آسٹریلیا اور جرمنی کی حکومتوں کی معاونت حاصل ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ثالثی میں اس پینل ڈیسکشن کا محور بنیادی طور پر علاقائی تھا خاص طو رپر ایشیا اور پیسفک، افریقہ اور مڈل ایسٹ اور لاطینی امریکہ اور کیریبن۔ ایشا پیسفک ریجنل پینل میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈائریکٹر تخفیف غربت و سماجی بہبود انڈونیشیا باپک مالکی، ڈیلیگیٹ آف رائل گورنمنٹ آف کمبوڈیہ کے ڈائریکٹر جنرل پلانگ تھنگ پیگناتھن نے کرونا وبا کے دوران سماجی تحفظ کے حوالے سے اختیار کی جانے والی اپنے ممالک کی پالیسیوں کا جائزہ پیش کیا۔ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے دائرہ کار اور حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نشتر نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کے نفاذ کے دس دن کے اندر حکومت پاکستان نے 15 ملین خاندانوں کو فوری ریلیف پہنچانے کے لیے کیش امداد ریلیف پروگرام کا آغاز کیا۔1.25 بلین ڈالر لاگت کے اس پروگرام پر نہایت تیز رفتاری سے عمل در آ مد کیا گیااور 75 ڈالر ز کی امدادی رقم غریب و مستحق خاندانوں کو بہم پہنچائی گئی۔ پروگرام کی ڈیجیٹل اپروچ اور شفاف ڈھانچہ انٹرنیشنل کمیونٹی کو یہ پیغام دیتا ہے کہ لو گوں کے پرسنل شناختی سسٹم کو استعمال کر کے کس طرح سماجی تحفظ کافوری ریلیف پروگرام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ ”ہم نے فون نمبرز، انٹر نیٹ کونیکٹوٹی اور شناختی کارڈنمبروں کی مدد سے ایک ڈیجیٹل ڈیمانڈبیسڈ سماجی تحفظ کا پروگرام تشکیل دیا جس کے ذریعے ضرورت مندوں کو فوری امداد پہنچانی ممکن ہو سکی“، ڈاکٹر نشتر نے مزید کہا۔ مجموعی طور پر احساس ایمرجنسی کیش پروگرام نے مستحق و ضرورت مند خاندانوں کو فوری ریلیف ہی نہیں پہنچایا بلکہ پاکستان کے فنانشل سیکٹر کی بنیادوں کو بھی مستحکم کیا۔ کوڈ۔19 میں سماجی تحفظ کے حوالے سے مختلف ممالک کے تجربات اور معلومات شیئر کرنے کے حوالے سے گلوبل ای۔ کانفرنس نے ایک اہم فورم کا کردار ادا کیا۔ اس گلوبل فورم نے سوشل پروٹیکشن تنظیم کی پانچویں سالگرہ منانے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں درپیش آنے والے کسی ایسے عالمی سماجی تحفظ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ممکنہ لائحہ عمل کی گائیڈلائنز بھی فراہم کیں۔








