بریسٹ کینسر کی جلد تشخیص سے علاج ممکن ہے، بیگم ثمینہ علوی

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی): خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے خواتین میں بریسٹ کینسر کے حوالہ سے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلد تشخیص سے اس مرض کا علاج ممکن ہے، اس سلسلہ میں معاشرہ کے ہر فرد اور شعبہ کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پشاور میں چھاتی کے سرطان کے حوالہ …

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی): خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے خواتین میں بریسٹ کینسر کے حوالہ سے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلد تشخیص سے اس مرض کا علاج ممکن ہے، اس سلسلہ میں معاشرہ کے ہر فرد اور شعبہ کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پشاور میں چھاتی کے سرطان کے حوالہ سے آگاہی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر سال دس لاکھ خواتین بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں جبکہ پاکستان میں 17 ہزار خواتین اس مرض کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ خاتون اول نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے مرض کی علامات کو نظر اندز نہیں کیا جانا چاہئے، خواتین اس معاملہ کو سنجیدہ لیں اور جھجھک کی بجائے مرض کی تشخیص اور علاج پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی جتنی جلد تشخیص ہو گی اتنے ہی علاج اور صحت یابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ ملکی کی ترقی اور خوشحالی میں خواتین کا کردار بڑھانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان کی صحت اور علاج معالجہ کی سہولیات تک رسائی میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے متعلق آگاہی کے بارے میں مہم میں معاشرہ کے ہر فرد اور شعبہ کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے، اس حوالہ سے خواتین ارکان پارلیمنٹ کی کوششیں سود مند ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں سے بھی درخواست کی ہے کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے مربوط کوششیں کی جائیں، اس حوالہ سے این جی اوز اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ خاتون اول نے کہا کہ پنک ربن بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی کا اہم جزو ہے، میڈیا اور اس سے وابستہ شخصیات آگاہی مہم کے سلسلہ میں ہر دستیاب پلیٹ فارم پر اس موضوع پر ضرور گفتگو کریں۔

مزید خبریں