گندم کی پیداوار اور زیر کاشتہ رقبے میں میں اضافےکے لئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، سید فخر امام

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا کہ ملک میں زرعی ترقی کے لئے دیہی علاقوں پر مزید سرمایہ کاری میں اضافہ ضروری ہونے کے علاوہ فی ایکڑ گندم کی پیداوار اور زیر کاشتہ رقبے میں میں اضافےکے لئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سید فخر …

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا کہ ملک میں زرعی ترقی کے لئے دیہی علاقوں پر مزید سرمایہ کاری میں اضافہ ضروری ہونے کے علاوہ فی ایکڑ گندم کی پیداوار اور زیر کاشتہ رقبے میں میں اضافےکے لئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سید فخر امام نے کہا کہ اٹھاریوں ترمیم کی وجہ سے رکاوٹوں کے باوجود میری وزارت نے کم سے کم وقت میں زرعی مقاصد کے حصول کے لیے مختصر،وسط المدتی اور طویل المدتی زرعی پالیسیاں وضع کی ہیں اور حکومت نے غذائی تحفظ کے ضمن میں 22 ملین ایکٹرپر کاشتہ گندم کی 1.2 ملین ٹن پیداوار میں سے 0.5 ملین ٹن پیداوار محفوظ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جبکہ
مکئی کی پیداوار کے لئے 7.8 میٹرک ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 73سال میں ملک کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافے کے باوجود خوش قسمتی سےملک ضروری غذائی اجناس کی پیداوار میں اب بھی خود کفیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری سال میں گندم کی دستیابی میں قلت سے قطع نظر پبلک سیکٹر کو 6.6 ملین ٹن آٹا فراہم کیا گیا جبکہ 4.9 ٹن آٹا ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اب بھی موجود ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیاں بیج کے ذریعے مکئی کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگلے سال 15 اپریل تک ملک میں گندم کی کھپت 6.3 ملین ٹن ہوجائے گی جس کے بعد مارکیٹ میں فصل کی نئی کھیپ پہنچ گی۔

مزید خبریں