اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی اور لڑائی نہیں ہے، ہمارا مقصد ملک میں ایک ایسا نظام وضع کرنا ہے جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایسا رابطہ بنے کہ اپوزیشن حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرے لیکن قومی اور عوام کے مفادات کے حوالے سے قانون سازی میں حکومت …
وزیراعظم عمران خان کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی اور لڑائی نہیں ہے،، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی اور لڑائی نہیں ہے، ہمارا مقصد ملک میں ایک ایسا نظام وضع کرنا ہے جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایسا رابطہ بنے کہ اپوزیشن حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرے لیکن قومی اور عوام کے مفادات کے حوالے سے قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دے، ملک اور عوام کے مفادات کی خاطر حکومت اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے لیکن احتساب کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، کوئی بھی معاشرہ اور ملک احتساب کے بغیر نہیں چل سکتا، حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے بدعنوان قائدین اور رہنمائوں کے ساتھ نرمی کی تو وہ سمجھنے لگے کہ یہ کمزور ہیں، اب کسی کو بھی شکوک و شبہات کے فوائد نہیں دیں گے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے جلسے اور جلوسوں سے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہے، یہ لوگ اپنی تقاریر میں غلط بیانی کرتے ہیں جس کا جواب دینا ضروری ہے تاکہ عوام کو اصل حقائق معلوم ہوں۔ شبلی فراز نے کہا کہ جب ملک میں غیریقینی صورتحال ہو تو اس کا اثر معیشت سمیت ہر چیز پر پڑتا ہے، اپوزیشن کے پاس ملک کو آگے لے جانے، مہنگائی میں کمی اور عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے، یہ لوگ صرف ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے قومی اداروں پر تنقید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 40 سال سے حکومتیں کرنے والوں کو اپنے ادوار میں کچھ خراب نظر نہیں آیا کیوں کہ یہ لوگ اقتدار میں تھے، اب ان کو ہر چیز ہی خراب نظر آ رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت مہنگائی اور اداروں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے سمیت دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، گزشتہ 50 سالوں سے جو مائنڈ سیٹ بنا ہوا ہے اس کو تبدیل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک جماعتی نظام نہیں ہے، موجودہ حکومت مضبوط اپوزیشن اور پارلیمنٹ پر یقین رکھتی ہے، ملک اور عوام کے مفادات کی خاطر حکومت اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے لیکن احتساب کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔








