اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے کوئی پریشانی نہیں اور وزیر اعظم عمران خان اپنی ٹیم کے ساتھ کرپٹ مافیا کے احتساب سےکبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن گوجرانوالہ میں لوگوں کو جمع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ، …
اپوزیشن جماعتیں صرف اپنے مفادات کے لئے اکٹھی ہوئی ہیں ، شہریار آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے کوئی پریشانی نہیں اور وزیر اعظم عمران خان اپنی ٹیم کے ساتھ کرپٹ مافیا کے احتساب سےکبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن گوجرانوالہ میں لوگوں کو جمع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ، اس لئے حکومت پی ڈی ایم کے مظاہروں اور جلسوں سے خوفزدہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو ماضی میں ایک دوسرے کے دشمن تھے وہ اب قومی مفادات کے تحفظ اور کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کے بجائے اپنے ذاتی ایجنڈے کے لئےحکومت کے خلاف ایک ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم اپوزیشن کے ارادوں کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی کیونکہ قوم ان لوگوں کی حقیقت جانتی ہے اور اپوزیشن رہنماؤں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ شہریار آفریدی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کرپٹ مافیا کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے اوروہ احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اپوزیشن کے ایجنڈے میں شامل نہیں جس سے اُس کی اہم قومی امور سے غفلت عیاں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بیرونی ایجنڈے پر چلنے کے بجائے مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کچھ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنی تقریروں میں دشمن کی زبان استعمال کرتے ہوئے قومی اداروں کو ہدف بنایا جس کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی کوششیں ہر گز برداشت نہیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں لہذا ہم سب کو چاہیے کہ پاک فوج کا احترام کریں ۔ انہوں نے کہ وزیر اعظم عمران خان واحد رہنما ہیں جو مہنگائی کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یومیہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے صرف این آر او حاصل کرنے کے لئے اتحاد کیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوان عناصر کے احتساب پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا اور کسی کو این آر او نہیں دیا جائے گا ۔








