پشاور۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میڈیاکی مکمل آزادی پریقین رکھتی ہے اخباری اشتہارات اورمیڈیااداروں کوبقایاجات کی ادائیگیوں سے متعلق شفافیت اورانصاف پرمبنی مربوط میکنزم پرکام کررہے ہیں جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کا تعاون درکارہوگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے پیر کے روزپشاورکے مقامی ہوٹل میں سی پی این ای اور اے پی این ایس کے مشترکہ اجلاس …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کاسی پی این ای اور اے پی این ایس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
پشاور۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میڈیاکی مکمل آزادی پریقین رکھتی ہے اخباری اشتہارات اورمیڈیااداروں کوبقایاجات کی ادائیگیوں سے متعلق شفافیت اورانصاف پرمبنی مربوط میکنزم پرکام کررہے ہیں جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کا تعاون درکارہوگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے پیر کے روزپشاورکے مقامی ہوٹل میں سی پی این ای اور اے پی این ایس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیراطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہاکہ انکے والد محترم احمدفراز(مرحوم )کابڑاہتھیاران کاقلم تھا صحافت سے وابستہ افرادکے پاس بھی قلم کابڑاہتھیارہے اس لحاظ سے میں کسی نہ کسی طریقے سے اس قبیلے کاحصہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ 60اور70کی دہائی میں محدوداخبارات اورایک ٹی وی چینل ہواکرتاتھاوزیرکے پاس ملاقاتوں کیلئے وقت کاکوئی مسئلہ نہیں ہوتاتھا لیکن آج کل لامحدوداخبارات اور ٹی وی چینلزہیں جس میں وزیراطلاعات24گھنٹے آن ڈیوٹی ہوتاہے تاہم مصروفیات کے باوجود اخباری مالکان کودرپیش مسائل سے باخبرہوں انہوں نے کہاکہ یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ حکومت میڈیاکے ذریعے اپنی پالیسیوں سے عوام کوباخبررکھتی ہے اس حوالے سے قومی اخبارات کاکرداراہمیت کاحامل ہے ملک میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ایک ایساطریقہ کاربنناچاہئے کہ عوام،وزیراورسرکاری ادارے سے وابستہ شخص اورمیڈیااداروں کے مابین بہترتعلقات قائم رہیں وفاقی وزیر نے کہاکہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیاکوجب اشتہارات نہیں ملتے توایساماحول پیدانہیں ہوناچاہئے کہ حکومت پرصرف تنقیدہو اورجب اشتہارات ملے تواخبار تعریفیں لکھے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ ایک سامیکنزم لایاجائے کہ جس میں میڈیااداروں کی مالی حالت مستحکم اور اسکی آزادی برقراررہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے2018ء سے لیکراب تک اشتہارات کی مد میں بقایاجات کاتخمینہ لگاکر ادائیگیاں کیں لیکن بدقسمتی سے میڈیاورکرزکوتنخواہیں نہیں دی گئیں وزیراعظم یاوزیراطلاعات کو اس کا ذمہ دارٹھہراناغلط ہے اس وقت ملک کومعاشی لحاظ سے چیلنجزکاسامناہے ایساہرگزنہیں کرسکتے کہ اشتہارات دیں اورقومی خزانے پربوجھ بڑھے گزشتہ ادوار میں حکومت کے اشتہارات کاکوئی حساب کتاب نہیں ہواکرتاتھا لیکن ہم نے آتے ہی میڈیاانڈسٹری میں شفافیت لائی انہوں نے میڈیامالکان سے درخواست کی کہ وہ اپنے ورکرزکوتنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔شبلی فرازنے مزید کہاکہ حکومت نے کسی میڈیاادارے کو بند نہیں کیا نہ ہی انہوں نے کسی چینل یااخبار کو اپنی کوریج کیلئے فون کیا ہے صحافی برادری کے تحفظ اور انکی فلاح بہبودسے متعلق بل لارہے ہیں اس بارے جس کے پاس مثبت تجاویزہوں حکومت کیساتھ شیئرکی جائیں۔ خیبرپختونخوامیں اخباری مالکان کیلئے بھرپورآوازاٹھائونگا اشتہارات کی مد میں بقایاجات کی ادائیگی کیلئے صوبائی حکومت کواقدامات اٹھانے کی ہدایت کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اس پر کسی کواعترا ض نہیں ہوناچاہئے کہ جس اخبارکی سرکولیشن زیادہ ہے اس کو زیادہ اشتہارات ملتے ہیں اس معاملے پر مالکان بھی تعاون کریں ہم میڈیاانڈسٹری کامعیاربلندکرناچاہتے ہیں صحافت کیلئے اصول اورپیرامیٹربنائے جائیں جس سے نہ صرف میڈیاکالیول بڑھے گا بلکہ حق دارصحافی کو اس کا حق بھی ملے گا انہوں نے کہاکہ وہ علاقائی اخبارات پرخصوصی توجہ دینگے جنہیں قومی اخبارات کے برابرسہولیات دی جائیں گی علاقائی اخبارات کی ڈیکلریشن کاعمل نہایت آسان ہے اس کے لئے بھی بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔ قبل ازیں چیئرمین اے پی این ایس خیبرپختونخوا سیدہارون شاہ نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز کو اخباری مالکان کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔








