کوئٹہ۔20اکتوبر (اے پی پی):خضدار میں زیتون کے پیداوار اوراس کی افادیت اور اہمیت کے حوالے سے’ نیشنل اولیو پروجیکٹ‘ اسلام آباد کے زیر اہتمام اور زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ و ڈائیریکٹر یٹ (اورک)کے اشتراک سے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار میں انٹر نیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس کا بنیادی مقصد خضدار کی وادی کو زیتون کی کاشت کے لیے مثالی ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا …
وفاقی وزیر زراعت سید فخر امام کاانٹر نیشنل کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب

مزید خبریں
کوئٹہ۔20اکتوبر (اے پی پی):خضدار میں زیتون کے پیداوار اوراس کی افادیت اور اہمیت کے حوالے سے’ نیشنل اولیو پروجیکٹ‘ اسلام آباد کے زیر اہتمام اور زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ و ڈائیریکٹر یٹ (اورک)کے اشتراک سے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار میں انٹر نیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس کا بنیادی مقصد خضدار کی وادی کو زیتون کی کاشت کے لیے مثالی ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا ۔کانفرنس سے وفاقی وزیر زراعت سید فخر امام وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار احسان اللہ خان کاکڑ، سید نعیم اطہر عباس ایڈوائزر پی پی آر (پی پی اے ایف)ڈاکٹر محمد طارق نیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر اولیو ڈاکٹر خیر محمد ڈائریکٹر جنرل ۰اورک) بلوچستان یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار وائس چانسلر لسبیلہ میرین یونیورسٹی ڈاکٹر دو ست محمد بلوچ عبدالحنان بوریرو ڈائریکٹر جنرل (برڈک) پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل ڈاکٹر ارشد حسین ہاشمی ڈائریکٹر اورک ورچوئل یونیورسٹی ڈاکٹر حامد جلیل ممبر فوڈ اینڈ ایگریکلچر منسٹری آف پلاننگ ڈویلپمنٹ سمیت غیر ملکی ماہرین اولیو نے بھی خطاب کیا، جب کہ انٹر نیشنل ماہرین سنیئر اٹالین ٹیکنیکل ایڈ وائزر ان پاکستان ڈاکٹر کوسٹس سابق ڈائریکٹر آف اولیو ٹری اینڈ سبٹروپیکل پلانٹس اور دیگر ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس سے خطاب کیا ۔وفاقی وزیر زراعت سید فخر امام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ایک مثالی ادارہ ہے جو اعلی تعلیم کے فروغ میں اپنا بھر پور کردار ادا کررہی ہے وفاقی وزیر زراعت نے کہا کہ زیتون کی کاشت اور فروغ کے لئے انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کی نظامت میں آج کا یہ انٹر نیشنل کانفرنس سنگ میل ثابت ہوگی انہوں نے انٹر نیشنل کانفرنس کے انعقاد پر منتظین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان ذراعت کے شعبے میں تاحال ترقی کی جانب گامزن ہے، بلوچستان میں ذرعی شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں ،وفاقی حکومت بلوچستان میں زیتون کی کاشت اور فروغ میں خطیر رقم خرچ کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاروں صوبوں میں یکساں ترقی کی خواہاں ہے ،صوبہ بلوچستان میں لوگوں کا ذریعہ معاش ذراعت اور مالداری پر منحصر ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کے کاشتکاروں کو فنی معاونت کے ساتھ جدید ذرعی طرز سے بھی آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں ذیتون کی کاشت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، زیتون ایک منافع بخش اور کم لاگت والی پیداوار ہے بلوچستان خصوصا خضدار موسم کے حوالے سے بھی بہت اہم مقام ہے۔ماہرین ذراعت و ماحولیات نے صوبہ بلوچستان کو زیتون کی پیداوار کے لئے اہم علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک روایتی طریقہ کاشت پر یہاں زیتون کی پیداوار نے ملکی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے لیکن اگر زیتون کی کاشت کو جدید خطوط پر کیا جائے تو اس سے نہ صرف بلوچستان کے کاشتکار خوشحال ہونگے بلکہ اسکے معاشی اثرات ملکی سطح پر رونما ہونگے ماہرین نے کہا کہ ذیتون کو ایک صنعت کے طور پر اختیار کرکے اس میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی اس کے لئے حکومتی ادارے کاشتکاروں کو جدید تربیت اور مشینری بھی فراہم کرینگے مقررین نے کہا کہ اس وقت خوردنی تیل کی مد میں ہم خطیر رقم کی لاگت سے بیرون ملک سے خوردنی تیل بر آمد کرتے ہیں ہم زیتون کی کاشت پر توجہ دیکر نہ صرف خوردنی تیل کی مد میں خرچ ہونے والی رقم بچا سکتے ہیں بلکہ خطیر رقم منافع بھی حاصل کرسکتے ہیں جس سے ہماری ملکی معیشت کو بہت بڑا سہارا مل سکتا ہے ۔ماہرین نے کہا کہ اس کے لئے اعلی تعلیمی ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی صوبوں کے پاس آبادی کے تناسب سے اراضی کی گنجائش دن بہ دن محدود ہوتی جارہی ہے لیکن بلوچستان واحد صوبہ ہے جسکی وسیع اراضی اب تک موجود ہے، اس وسیع و عریض صوبے کی اراضی کو کارآمد بنانے کے لئے زرعی شعبے پرخصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے باقی درخت پھل اور فصلات کے لئے پانی زیادہ درکار ہوتا ہے جبکہ زیتون واحد درخت ہے جو کم پانی میں سالہاسال تک پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،مقررین نے انٹر نیشنل کانفرنس برائے زیتون کی فروغ کو ملک اور صوبے کے لئے نیک شگون قرار دیتے ہوئے ذرعی شعبے میں نئی ترقی کی جانب گامزن ہونے کا سبب قرار دیا سیمینار کے اختتام پر وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ نے کہا کہ خضدار انجنیئرنگ یونیورسٹی اپنے ہونہار اور باصلاحیت فیکلٹی ممبران پر فخر کرتی ہے میں آپ تمام شرکا کو یقین دلاتاہوں کی زیتون کی پیداوار اور فروغ میں ہم ہر ممکن مدد اور تعاون کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔








