ہولوکاسٹ بارے مواد کی تشہیر روکی جا سکتی ہے تو اسلام کے خلاف توہین آمیز مواد پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے، اسلاموفوبیا کے معاملے کواو آئی سی کے پلیٹ فارم پر اٹھایا جائے گا، کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھیں گے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر ہولوکاسٹ کے حوالے سے مواد کی تشہیر کو روکا جا سکتا ہے تو اسلام کے خلاف توہین آمیز مواد پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔پاکستان حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔منگل کو یوم سیاہ اور گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر ہولوکاسٹ کے حوالے سے مواد کی تشہیر کو روکا جا سکتا ہے تو اسلام کے خلاف توہین آمیز مواد پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔پاکستان حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔منگل کو یوم سیاہ اور گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں کر رہے اور نہ ہی ہم نے کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا ہے سب پاکستانی محترم اور حب الوطن ہیں لیکن آج چند نادان سیاست دان جو زبان استعمال کر رہے ہیں اور جو ریاست مخالف بیانیہ، ان کے پلیٹ فارم سے دیا جا رہا ہے، اس سے قومی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔انہیں اس روش کو بدلنا ہو گا انہی جذبات اور خیالات کا اظہار میں نے کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا تھا۔آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں کشمیری یوم احتجاج منا رہے ہیں۔آج کے دن 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے ناجائز طور پر، دھوکہ دہی سے کشمیر کی سرزمین پر قبضہ کیا اور وہ قبضہ آج تک جاری ہے بھارت،نے اپنے وعدوں اور سیکورٹی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کیا جس سے کشمیریوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا اور آج تک کشمیری، اس ناجائز قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 5 اگست کے اقدامات کے بعد اس احتجاج میں مزید شدت آئی ہے کیونکہ ایسے قوانین لائے گئے جس سے آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے جو کشمیریوں کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔انہوں ۔ے کہا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ، پاکستان میں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ہم نے اس مسئلے کو کیسے آگے لے کر چلنا ہے۔پاکستان نے اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کئے ۔سب سے پہلے ہم نے اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے دنیا کو آگاہ کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس میں اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز بیانیے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذکر کیا۔اسی طرح وزیر اعظم عمران خان نے فیس بک کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرک کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ فیس بک پر ایسا نفرت آمیز اور گستاخانہ مواد شائع نہ کیا جائے جس سے اشتعال اور شدت پسندی میں اضافہ ہو۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر ہولوکاسٹ کے حوالے سے مواد کی تشہیر کو روکا جا سکتا ہے تو اسلام کے خلاف توہین آمیز مواد پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے ۔کل اس حوالے سے، سینٹ و قومی اسمبلی میں،سندھ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ اسمبلیوں میں قراردادیں منظور ہوئیں ۔ہماری کوشش ہو گی کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر اسلاموفوبیا کے معاملے کو اٹھایا جائے ،ہماری کوشش ہو گی کہ نائجر میں او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں، اس معاملے پر ایک متفقہ قرارداد لائ جائے ۔ہم آزادی اظہارِ رائے کے خلاف نہیں لیکن اس آزادی کی آڑ میں لوگوں کو نفرت انگیز اور توہین آمیز بیانیے کے ذریعے تشدد پر اکسانا،کسی صورت مناسب نہیں ہے ۔ آزادی اظہارِ رائے کی مقررہ حدود و قیود کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے جہاں آپ کو حقوق دیے گئے ہیں وہاں ذمہ داریاں بھی وضع کی گئی ہیں جن کی پاسداری نہایت ضروری ہے