اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان کے مفادات کو داﺅ پر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،عثمان بزدار

لاہور۔1نومبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان کے مفادات کو دائوپر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اپوزیشن کا حالیہ بیانیہ پاکستان کے بیانیہ کے یکسر خلاف ہے۔اپوزیشن رہنمائوں کو منفی سیاست سے توبہ کر لینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام پاکستان کے خلاف کوئی مذموم سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔اپوزیشن رہنمائوں نے کورونا کی دوسری لہر کے باوجوداجتماعات کی …

لاہور۔1نومبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان کے مفادات کو دائوپر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اپوزیشن کا حالیہ بیانیہ پاکستان کے بیانیہ کے یکسر خلاف ہے۔اپوزیشن رہنمائوں کو منفی سیاست سے توبہ کر لینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام پاکستان کے خلاف کوئی مذموم سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔اپوزیشن رہنمائوں نے کورونا کی دوسری لہر کے باوجوداجتماعات کی سیاست سے گریز نہیں کیا۔شہریوں کی زندگیوں اورصحت سے کھیلنے والے اپوزیشن رہنما وں کے سینے میں عوام کا کوئی درد نہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل سے بے خبر اپوزیشن صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں لگی ہوئی ہے۔اپوزیشن نے عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے انہیں تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی- اپوزیشن کا منفی کردار قابل مذمت ہے – وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے ذاتی مفاد کی خاطر پاکستان کے مفادات کو نظر انداز کیا۔اپوزیشن رہنماوں کو پاکستان مخالف بیانیہ کا حساب دینا پڑے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ اپوزیشن رہنماوں کا بیانیہ پاکستان کے ازلی دشمن کو فائدہ پہنچا رہاہے۔تین دہائیوں سے برسرار اقتدار رہنے والی جماعت کے لیڈروں کی پست ذہنیت بے نقاب ہو چکی ہے۔سیاست عوام کی خدمت کانام ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اقتدار کیلئے پاکستان کے مفادات کو زک پہنچائی۔انہوں نے کہا کہ اداروں کو متنازعہ بنانے کی ہر کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔ہم اپنے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔اداروں کے خلاف باتیں کرنے والوں کا کوئی مستقبل نہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام رہبروں کے بھیس میں راہزنوں کے چہرے پہچان چکے ہیں۔اپوزیشن کے ناعاقبت اندیش رہنما بیان بازی کرکے مکار مودی اور اس کے چیلوں کو خوش کر رہے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔