بدعنوانی ایک سرطان کی طرح ہے جو زہر قاتل ہے، قومی احتساب بیورو بدعنوانی کی تمام اشکال اور اقسام کو آہنی ہاتھوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے،جسٹس جاوید اقبال

اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی ایک سرطان کی طرح ہے جو زہر قاتل ہے، قومی احتساب بیورو احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بدعنوانی کی تمام اشکال اور اقسام کو آہنی ہاتھوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے ۔ اتوار کو اپنے ایک بیان …

اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی ایک سرطان کی طرح ہے جو زہر قاتل ہے، قومی احتساب بیورو احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بدعنوانی کی تمام اشکال اور اقسام کو آہنی ہاتھوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے ۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں چیئرمین نیب نے کہاکہ بدعنوانی ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس سے ایک عام آدمی میرٹ کے اپنے جائزہ حق سے محروم ہو رہاہے۔انہوں نے کہاکہ بھرپور قانونی چارہ جوئی کی بدولت نیب کی سزائوں کی شرح 68.8فیصد ہے جو بدعنوانی کے دیگر اداروں کے مقابلے میں سب سے بہترین سزائوں کی شرح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نیب اقوام متحدہ کے بدعنوانی کے خلاف کنونشن (یو این سی اے سی ) کے تحت ایک فوکل ادارہ ہے ،نیب سارک ممالک کے انسداد بدعنوانی فورم کا پہلا سربراہ بھی ہے۔ نیب دنیا بھر میں پاکستان کا وہ واحد ادارہ ہے جسے چین نے پاکستان میں سی پیک کے تحت شروع کئے جانے والے منصوبوں کی نگرانی کے طور پر منتخب کیا اور اس کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ قومی احتساب بیورو آگاہی ، تدارک اور نفاذ کی سہہ پہلو حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جو دنیا میں بہترین حکمت عملیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بدعنوانی کے انسداد کی موثر حکمت عملی کی بدولت قومی احتساب بیورو نے اپنے آغاز سے اب تک 466ارب روپے کی لوٹی ہوئی دولت برآمد کر کے قانون کے مطابق قومی خزانے میں جمع کرائی ، مزید برآں قومی احتساب بیورو نے مختلف فاضل احتساب عدالتوں میں 943ارب روپے کی مالی بدعنوانیوں سے متعلق 1230ریفرنس دائر کر رکھے ہیں ، گیلانی اور گلیپ سروے کے مطابق 57فیصد پاکستانی عوام نے نیب پر اپنے اعتمادکا اظہار کیا ہے ، اسی طرح ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل ، ورلڈ اکنامک فورم اور مشعل پاکستان جیسے قومی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں نے بھی نیب کی کوششوں کو سراہا ہے جو پاکستان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے ۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ بدعنوانی کے بڑے مقدمات اور وائٹ کالر کرائم جیسے کیسز کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا قومی احتساب بیورو کی اولین ترین ترجیح ہے ،ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انکوائری اور تفتیش کے جدید طریقہ کار کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی احتساب بیورو اپنے تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کی تربیت کو انتہائی اہمیت دیتی ہے تاکہ تفتیشی عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکے اور بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے ۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ قومی احتساب بیورو نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی ) کا ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے تاکہ اجتماعی تحقیقاتی ٹیم کے نظام پر عمل کرتے ہوئے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے استفادہ کیا جاسکے ۔اس عمل سے نیب کے کام کا معیار بہتر ہو رہا ہے ، قومی احتساب بیورو نے اپنے تمام علاقائی بیوروز میں شواہد اکٹھے کرنے کے لئے خصوصی سیل قائم کرنے کے علاوہ اپنے صدر دفتر میں انسداد منی لانڈرنگ سیل کا قیام بھی عمل میں لایا ہے ۔ مزید برآں قومی احتساب بیورو نے نیب ہیڈ کواٹر اور علاقائی بیوروز میں شکایات سیل بھی قائم کر رکھے ہیں، اکتوبر 2020تک قومی احتساب بیورو کو موصول ہونے والی شکایات 2019کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں جو قومی احتساب بیورو پر عوامی اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو بدعنوانی کے مظہر اثرات سے متعلق آگاہی کے لئے قومی احتساب بیورو نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر رکھے ہیں جس کے تحت ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں پچاس ہزار سے زائد کردار ساز سوسائٹیز (سی بی ایس) کا قیام عمل میں لایا ہے ، اس کے علاوہ قانون کے مطابق عوامی شکایات کے ازالے اور نشاندہی کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لئے روک تھام کمیٹی بھی قائم کر رکھی ہیں ۔ مزید برآں قومی احتساب بیورو نے مانیٹرنگ اور جائزہ نظام بھی تشکیل دیا ہے تاکہ منظم طریقے سے پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے اور کارکردگی کی موثریت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جاسکیں ، اس عمل سے پیشہ وارانہ مانیٹرنگ اور جائزہ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ نگرانی اور جائزہ نظام ( ایم ای ایس ) پیش رفت کے جائزہ کا ایک اہم انتظامی آلہ کار ہے اور اس کے ذریعے فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ ماضی حال اور مستقبل کی کارروائیوں کے درمیان ربط قائم کرنے میں بھی سہولت ملی ہے ۔ چیئرمین نیب کی ہدایایت پر قومی احتساب بیورو نے ادارے کو عوام دوست بنایا ہے جو لوگوں کے ذاتی احترام پر بھر پور یقین رکھتا ہے۔ قومی احتساب بیورو نے ملک بھر کے اپنے تمام بیوروز میں کاروباری اداروں کی شکایات کے ازالے کے فریضہ کے تحت خصوصی ڈیسک قائم کر رکھے ہیں۔