اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کیلئے، عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی سمیت موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،پاکستان نے ہمیشہ افغان قیادت میں، افغانوں کیلئے قابلِ قبول جامع مذاکرات کی حمایت کی ہے۔کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے سوموار کو …
اسلاموفوبیا پر قابو پانے اور بین المذاہب ہم آہنگی سمیت موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کیلئے، عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی سمیت موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،پاکستان نے ہمیشہ افغان قیادت میں، افغانوں کیلئے قابلِ قبول جامع مذاکرات کی حمایت کی ہے۔کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے سوموار کو اپنے جرمن کے ہم منصب ہائیکو ماس کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین ،دو طرفہ تعلقات،کرونا عالمی وبائی صورتحال، افغانستان میں قیام امن سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ نے کرونا وبا کے باعث جرمنی میں ہونیوالے جانی نقصان پر جرمن وزیر خارجہ سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ کرونا وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے جرمن حکومت کی موثر حکمت عملی قابلِ تحسین ہے ۔وزیر خارجہ نے پاکستان میں کرونا وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے جرمن حکومت کی جانب سے فراہم کی جانیوالی معاونت پر جرمن وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔اس صورت حال پر قابو پانے کیلئے، عالمی سطح پر، بین المذاہب ہم آہنگی سمیت موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔افغان امن عمل سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغان امن عمل سمیت خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنی مخلصانہ کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔افغان قیادت کے پاس، بین الافغان مذاکرات کی صورت میں ایک نادر موقع موجود ہے ان مذاکرات کا نتیجہ خیز ہونا، افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔پاکستان نے ہمیشہ افغان قیادت میں، افغانوں کیلئے قابلِ قبول جامع مذاکرات کی حمایت کی ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں ان عناصر پر بھی نظر رکھنا ہو گی جو خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔وزیر خارجہ نے، بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی جرمن ہم منصب کو آگاہ کیا۔بھارت، عالمی قوانین سے روگردانی کرتے ہوئے، مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہتے کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔دونوں وزرائے خارجہ کا دو-طرفہ تجارتی، اقتصادی تعاون کے فروغ اور خطے میں قیام امن کیلئے جاری کاوشوں کے حوالے سے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔








