اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ ن لیگی رہنما ایاز صادق نے جھوٹ بول کر ملکی تاریخ اور حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستان اپنے دفاع کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتا ہے، پاکستان امن پسند ملک ہے اور جنگ نہیں چاہتا اور امن پسندی کے تحت ہی بھارتی پائلٹ کو واپس کیا گیا تھا، اویس نورانی …
ایاز صادق نے جھوٹ بول کر ملکی تاریخ اور حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات

مزید خبریں
اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ ن لیگی رہنما ایاز صادق نے جھوٹ بول کر ملکی تاریخ اور حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستان اپنے دفاع کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتا ہے، پاکستان امن پسند ملک ہے اور جنگ نہیں چاہتا اور امن پسندی کے تحت ہی بھارتی پائلٹ کو واپس کیا گیا تھا، اویس نورانی نے ملکی یک جہتی کے خلاف بات کی ہے، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے کسی رہنما نے ان کے بیان کی مذمت نہیں کی جو کہ خطرناک بات ہے، حکومت کو اپوزیشن کی تحریک کو دبانے کی کوئی ضرورت نہیں، ہر دور میں حکومت جانے کی باتیں ہوتی ہیں، حکومت کو اپوزیشن کے جلسے جلوسوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے، حکومت قانون سازی اور ملکی مفادات کے معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے، این آر او نہیں دے گی، ملک میں کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، وبا بڑھی تو بندشیں بھی بڑھانا ہوں گی، عوام اور تمام سیاستدانوں سے اپیل ہے کہ وہ وبا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کریں۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو حکومت پر تنقید کرنے کا پورا حق ہے لیکن اپوزیشن کا پورا بیانیہ ریاست مخالف ہے اور تسلسل کے ساتھ قومی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاستدانوں کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہییں جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔ اسد عمر نے کہا کہ حکومت کے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کیلئے دروازے کھلے ہیں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور ہم سیاسی چیلنج کو سیاسی انداز سے نمٹیں گے، ہمیں اپوزیشن کے ساتھ کام کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، ہم نے پہلے بھی مل کر متعدد قانون سازیاں کی ہیں اور اب بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ وہ این آر او نہیں مانگ رہے، اپوزیشن نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قانون سازی کے معاملے پر 34 شقوں پر مشتمل تحریری این آر او مانگا تھا لیکن حکومت نے ان کی تجاویز کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف نظام سے باہر ہیں اور لندن میں بیٹھ کر انقلاب لانے کی بات کر رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں جلسے جلوس کرنا چاہتی ہیں تو ضرور کریں، حکومت کو کوئی پریشانی نہیں ہے، بلاول بھٹو گزشتہ سال بھی اسی طرح تقریریں کر چکے ہیں، پیپلزپارٹی کا ووٹ نہیں بچا وہ کیا جلوس لائیں گے، جب لانگ مارچ کریں گے تب دیکھیں گے، اپوزیشن کی پہلے بھی حکومت مخالف تحریک ناکام ہوئی تھی، اسی طرح آئندہ بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اسد عمر نے کہا کہ حکومت ملک میں مکمل لاک ڈاﺅن کی حمایت نہیں کرتی، ہم نے پہلے بھی سمارٹ لاک ڈائون کے ذریعے وبا کے پھیلائو کو روکا تھا اور دنیا نے پاکستانی حکومت کے اقدامات کو سراہا تھا، بے احتیاطی کی وجہ سے کیسز کی شرح تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، جیسے جیسے وبا بڑھتی جائے گی ہمیں بندشیں لگانا پڑیں گی، عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ رکھیں اور کثرت کے ساتھ ہاتھ دھوئیں، تھوڑی سے احتیاط کر کے نہ صرف ہزاروں جانوں کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ روزگار بھی بچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین کا کوئی موازنہ نہیں ہے، نواز شریف سزا یافتہ مجرم ہیں، پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک قیدی کو علاج کیلئے بیرون ملک بھیجا گیا ہو، وہ مفرور اور اشتہاری مجرم ہیں جبکہ دوسری جانب جہانگیر ترین کے اوپر ابھی صرف رپورٹ آئی ہے، اگر وہ ملوث ہوئے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ میں صحافیوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر)صفدر اعوان نے مزار قائد کی بے حرمتی کی لیکن آج تک انہوں نے اور مریم نواز نے معذرت نہیں کی۔ آئی جی سندھ کے اغوا سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ نے ابھی تک کراچی واقعہ کی وضاحت نہیں کی، تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔








