کورونا وائرس کی دوسری لہر کا آغاز ہو چکا ہے، اس وبانے عالمی معیشت اور زندگیوں کو روزانہ کی بنیادوں پر متاثر کیا، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کا استنبول سکیورٹی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس سے 45 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، کورونا وائرس کی دوسری لہر کا آغاز ہو چکا ہے، اس وبانے عالمی معیشت، عوام اور اقوام کی زندگیوں کو روزانہ کی بنیادوں پر متاثر کیا، وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے …

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس سے 45 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، کورونا وائرس کی دوسری لہر کا آغاز ہو چکا ہے، اس وبانے عالمی معیشت، عوام اور اقوام کی زندگیوں کو روزانہ کی بنیادوں پر متاثر کیا، وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے مسلم ممالک کے رہنماؤں کو خطوط لکھے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو چھٹی استنبول سکیورٹی کانفرنس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے ترکی کے شہر ازمیر میں زلزلہ کے باعث جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور مدد کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں بھولے کہ ترکی کی حکومت اور عوام نے پاکستان میں 2005ءکے زلزلہ میں پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ہر لحاظ سے مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کورونا وائرس کی وبامیں مبتلا ہے، اب تک دنیا بھر میں 45 ملین سے زائد افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے۔ اس وباسے صحت کے بارے میں کافی خدشات پائے جاتے ہیں۔ اس نے عالمی معیشت، افراد اور اقوام کو روزمرہ کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، کثیر الجہتی کوششوں سے اس وباءسے پیدا ہونے والے مسائل میں مدد ملنی چاہیے تھی۔ اس وبانے ہمیں یہ سکھایا کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک تمام افراد اس وباسے محفوظ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام افراد کو اس وباسے محفوظ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب یہ بحران آیا تو ہر ملک اپنے آپ کو اس وباءسے بچانے کی کوشش کرنے لگا۔ بہت سے ممالک نے امتیازی سلوک، نسل پرستی اور دیگر کمزور گروہوں کے خلاف تشدد آمیز رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وبانے عالمی امن اور سیکورٹی کو بھی خطرات سے دوچار کیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ کورونا وباءکے علاوہ بھی کئی چیلنجز موجود ہیں، قوم پرستی، اسلامو فوبیا اور جارحیت کو فروغ ملا، اسلامو فوبیا سمیت مسلمانوں کے خلاف تعصب، امتیازی سلوک اور انتہاءپسندانہ رجحان بھی بڑھا، اسلامی اور مقدس مقامات کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی اکرمﷺ کی توہین کی جا رہی ہے، آزادی اظہار رائے کے نام پر قرآن پاک نذر آتش کرنے کے واقعات رونما ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ریاستوں بالخصوص یورپی یونین کے نامناسب رویئے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کا اعلان کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے مسلم ریاستوں کے رہنماؤں کو خطوط بھی لکھے کہ وہ نفرت اور انتہاءپسندی کے خاتمے کے لئے اجتماعی طور پر آگے بڑھیں اور اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کریں۔ وفاقی وزیر نے بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آر ایس ایس ۔ بی جے پی کی سیاست میں مذہبی اتحاد کے تحت ہندوتوا نظریئے کا عروج دیکھ رہے ہیں، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیاں، امتیازی پالیسیاں اور قوانین، مقدس مقامات کی توڑ پھوڑ، مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر اور جرائم، میڈیا پروپیگنڈا دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 وباپھیلانے کا باعث بننے والے افراد سمجھ کر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباسے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضہ کو برقرار رکھنے کے لئے بی جے پی کی حکومت نے متنازعہ خطے کی آبادی کو تبدیل کرنے کے لئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی ڈومیسائل کے قوانین متعارف کرائے۔

مزید خبریں