پمز سانحہ کی تحقیقات کے لئے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی والی کمیٹی بنائی جائے ،راجہ پرویز اشرف
پمز سانحہ کی تحقیقات کے لئے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی والی کمیٹی بنائی جائے ،راجہ پرویز اشرف

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):سابق وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے رکن راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پمز سانحہ کی تحقیقات کے لئے پارلیمان کی کمیٹی تشکیل دی جائے،پمز سانحہ میں جاں بحق بچوں کے والدین اور لواحقین سے معافی مانگتے ہیں۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر راجہ پرویز اشرف نے پمز سانحہ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ صحت کے تمام شعبہ جات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے،آج واقعہ کا تیسرادن ہے تاہم آگ لگنے کی وجوہات معلوم نہ ہوسکیں۔
کیا وہاں کوئی کئیر ٹیکر موجود تھا کہ آگ لگتے ہی بچوں کو وہاں سے نکالتا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی چوری روکنے کے لئے دروازے بند کرنے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے انتظامیہ کی موجودگی میں کیسے بچے چوری ہوسکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کمیٹی بنائی جو اچھی ہے،اس پر اس پارلیمان کی کمیٹی بنائی جائے۔یہ وفاقی دارالحکومت میں پاکستان کا سب سے بڑا ہسپتال ہے،اگر ہم نے اس معاملہ کو نظرانداز کردیا تو ہم سب اس میں برابر کے شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سپیکر اور چئیرمین سینٹ کی مشترکہ سربراہی میں کمیٹی بنائی جائے جو اس معاملہ کی تحقیقات کرے،اس میں متعلقہ ڈاکٹرز کو بلائے،بچوں کے والدین کو بلائے۔کیا اس سانحہ کے وقت کہاں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود تھے۔
انہوں نے کہا یہ ایوان بالادست ہے،یہ اس کی آزادانہ تحقیقات کرے،اس کے لئے ماہرین کی خدمات لی جائے۔اس معاملہ پر معض مباحثہ اور قرارداد کی ضرورت نہیں ہے،وہ بچے معصوم تھے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی ہو اور حقائق سامنے لائے اور جو ذمہ دار ہے اس کو سزا دیں۔
ساری دنیا میں خطرات سے نمٹنے کے لئے آلات، تربیت اور فنڈز مختص ہوتے ہیں،یہاں پر پہلے کہا گیا کہ اے سی پھٹنے سے آگ لگی تاہم وہاں اے سی کام ہی نہیں کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کمیٹی کی رپورٹ بھی سامنے آجائے گی تاہم یہاں پارلیمان کی کمیٹی بھی بنائیں،کیا اس ایوان کا کام صرف ایک دوسرے کو گالیاں دینا رہ گیا ہے؟ یہ کمیٹی سپریم ہوگی اس کی روشنی میں ملک کے دیگر ہسپتالوں کا بھی جائزہ لیاجائے۔








