خطرہ بننے والوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا، سعودی ولی عہد

ریاض۔13نومبر (اے پی پی):سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق ولی عہد نے مجلس شوری سے خادم حرمین شریفین کے جامع خطاب پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب دنیا کی اہم اور اقصادی طاقت ہے۔ سعودی عرب اپنی معیشت کا حجم …

ریاض۔13نومبر (اے پی پی):سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق ولی عہد نے مجلس شوری سے خادم حرمین شریفین کے جامع خطاب پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب دنیا کی اہم اور اقصادی طاقت ہے۔ سعودی عرب اپنی معیشت کا حجم دگنا کرنے اور اقتصادی وسائل مں تنوع پیدا کرنے میں سنجیدگی سے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی سکیموں کا محور تیل کے ماسوا معاشی نظام کا قیام ہے۔ ولی عہد کا کہنا تھا کہ 2016 میں تیل کے علاوہ قومی پیداوار 1.8 ٹریلین ریال تھی۔ اس میں تیزی سے اضافے کی سکیمیں نافذ کی گئیں، تین برسوں کے دوران خوشگوار نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود جی ٹونٹی میں شامل ملکوں کے حوالے سے سعودی عرب دس کامیاب ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ پرامید ہیں کہ وبا کہ خاتمے پر شرح نمو میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور حالات معمول پر آئیں گے اور سعودی عرب آئندہ برسوں کے دوران تیل کے علاوہ قومی پیداوار میں تیز رفتار شرح نمو حاصل کرنے والا جی ٹونٹی کا اہم ملک بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وژن 2030 کا ہدف یہ ہے کہ 2020 میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد تک رہ جائے۔ 2018 میں بے روزگاری کی شرح تیرہ فیصد تھی ۔2020 کے شروع میں یہ شرح کم ہو کر 11.8 فیصد رہ گئی۔ 2020 کے آخر میں جی ٹونٹی میں کورونا وائر س کی وبا سے متاثرہ ملکوں میں سب سے کم بے روزگاری کی شرح ہمارے یہاں ہوگی۔ جی ٹونٹی کے کئی ملکوں میں بے روزگاری کی شرح پندرہ سے بیس فیصد اور اس سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ہمارے یہاں خواتین میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے۔ اس کا تناسب 64 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’2017 میں انتہا پسندی کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا ۔ فورا ہی انتہا پسندانہ سرگرمیوں اور اس کے اسباب سے نمٹنے کےلیے اقدامت کیے۔ ایک برس کے اندر40سالہ نظریاتی منصوبے کا خاتمہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔

مزید خبریں