اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):پٹرولیم ڈویژن نے ملک میں تیل و گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری بڑھانے کافیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں مزید 8 نئے بلاک آئندہ ماہ نیلامی کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں تیل و گیس کے ذخائر تیزی کے ساتھ کم ہو رہے ہیں ۔ گیس کی ملکی پیداوار تقریباً 3.7مکعب فٹ یومیہ جبکہ …
پٹرولیم ڈویژن کا ملک میں تیل و گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری بڑھانے کافیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):پٹرولیم ڈویژن نے ملک میں تیل و گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری بڑھانے کافیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں مزید 8 نئے بلاک آئندہ ماہ نیلامی کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں تیل و گیس کے ذخائر تیزی کے ساتھ کم ہو رہے ہیں ۔ گیس کی ملکی پیداوار تقریباً 3.7مکعب فٹ یومیہ جبکہ طلب 6 ارب مکعب فٹ سے زیادہ ہے اور گیس کے ذخائر 9.5 شرح سے سالانہ کم ہو رہے ہیں ۔پٹرولیم ڈویژن نے ملک میں خشک ہونے والے کنوئوں اور تیل و گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی کے معاملے کافرانزک آڈٹ کرانے کے لئے ایک چار رکنی کمیٹی پہلے ہی قائم کر دی ہے جس کے چیئرمین سابق ایم ڈی او جی ڈی سی ایل ڈاکٹر ندیم احمد ہیں۔ کمیٹی ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کمی کو ٹی جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے تین، ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کے دو، ماڑی پٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے دو اور او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے چار چار نمائندوں سمیت 15 دیگر ارکان کی معاونت بھی حاصل ہو گی۔ کمیٹی کے چیئرمین کو تیل وگیس کے شعبہ میں کام کرنے والی کمپنیوں، جیولاجیکل سروے آف پاکستان ،ایچ ڈی آئی پی اور پٹرولیم ڈویژن کے پالیسی ونگ کے افسران پر مشتمل فرانزک فیلڈ مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دینے کی بھی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ یہ ٹیمیں ملک بھر میں بند ہونے والے کنوئوں کا بھی دورہ کریں گی اور تکنیکی طور پر ان کی صورتحال کا تجزیہ کریں گے۔ یہ ٹیمیں تیل و گیس کے کنوئوں کا فرانزک آڈٹ کریں گی اور ان سے پیداوار کی بحالی کے حوالے سے اقدامات تجویز کریں گی۔ اس کے علاوہ بندہونے والے ان کنوئوں کی بحالی اور ان سے پیداواردوبارہ شروع کرنے کے معاملے کاجائزہ لینے کے لئے بھی حکمت عملی مرتب کی جائے گی جن پر دوبارہ کام شروع کرنے کے حوالے سے تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں پہلے ہی شیڈول جاری کرنے کی یقین دہانی کراچکی ہیں۔ کمیٹی سیکرٹری پٹرولیم کو ایک ماہ میں براہ راست اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔








