وفاقی وزیر صنعت و پیداوار کا لاہور چیمبر میں تقریب سے خطاب

لاہور۔14نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ تیز تر معاشی نشوونما کی خاطر کاروباروں پر سے ٹیکسوں کا بوجھ کم کردیا جائے گا، کوروناوائرس کی وجہ سے دنیا کی معیشت ساڑھے چار فیصد جبکہ بھارت کی معیشت دس فیصد سے زیادہ سکڑی لیکن پاکستان کی معیشت مثبت ترقی کا رحجان ظاہر کررہی ہے،حکومت کو کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ، گرے لسٹ میں شمولیت اور …

لاہور۔14نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ تیز تر معاشی نشوونما کی خاطر کاروباروں پر سے ٹیکسوں کا بوجھ کم کردیا جائے گا، کوروناوائرس کی وجہ سے دنیا کی معیشت ساڑھے چار فیصد جبکہ بھارت کی معیشت دس فیصد سے زیادہ سکڑی لیکن پاکستان کی معیشت مثبت ترقی کا رحجان ظاہر کررہی ہے،حکومت کو کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ، گرے لسٹ میں شمولیت اور دیگر بہت سے مسائل ورثے میں ملے تھے مگر صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے،کوروناوائرس کےدوران حکومت نے 3 لاکھ تاجروں کے تین ماہ کے لیے بجلی کے بلز ادا کئے،ایس ایم ایز کے لیے نئی پالیسی جلد ہی متعارف کرائی جارہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے پیک آورز ختم کرکے صنعتوں کو بجلی کا خصوصی پیکیج دیا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز لاہور چیمبر میں تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب محمد ناصر حمید خان، نائب صدر طاہر منظور چودھری، سابق صدور میاں مصباح الرحمن، سہیل لاشاری، الماس حیدر، سابق سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر، امجد علی جاوا، سابق نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران اس موقع پر موجود تھے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ کاروباروں پر سے غیرضروری ٹیکسز کا خاتمہ ان کی ترقی میں مدد دے گا، پاکستان کی معیشت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے،کوروناوائرس کی وجہ سے دنیا کی معیشت ساڑھے چار فیصد جبکہ بھارت کی معیشت دس فیصد سے زیادہ سکڑی لیکن پاکستان کی معیشت مثبت ترقی کا رحجان ظاہر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحالی میں بنیادی کردار انڈسٹری ادا کررہی ہے، ستمبر کے دوران انڈسٹری کمپونینٹس کی نشوونما 7.5فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ اور یوریا فرٹیلائزرز کی کھپت اس وقت تاریخی ہیں، گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال آٹوموبیل سیکٹر کی سیلز 43فیصد زائد ہیں۔ حماد اظہر نے کہا کہ حکومت کو کرنٹ اکاونٹ خسارہ، گرے لسٹ میں شمولیت اور دیگر بہت سے مسائل ورثے میں ملے تھے مگر صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کے دوران حکومت نے تین لاکھ تاجروں کے تین ماہ کے لیے بجلی کے بلز ادا کئے، پنجاب میں تیرہ خصوصی اکنامک زونز قائم کئے جارہے ہیں جبکہ پہلے سے قائم زونز کو بہتر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سیکٹرز کے لیے زیرو ریٹڈ سہولت پہلے ہی ختم کی جاچکی ہے، اب اس کا فائدہ براہ راست ایکسپورٹس کو پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سکل ڈویلپمنٹ کے لیے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لیا جائے گا، ایس ایم ایز کے لیے نئی پالیسی جلد ہی متعارف کرائی جارہی ہے، وزیر اعظم نے ایس ایم ایز کے لیے نیشنل کورآڈینیشن کمیٹی قائم کردی ہے تاکہ انہیں سہولیات دی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پیک آورز ختم کرکے صنعتوں کو بجلی کا خصوصی پیکیج دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ لاہور چیمبر حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو بجلی کا ریلیف پیکیج دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے، اس سے یقینا ان صنعتوں کو ترقی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بہترین پالیسیوں کی بدولت معاشی بحالی کا عمل شروع ہوا ہے20 ۔2019میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ سیکٹرکا گروتھ ریٹ منفی 7.78فیصدتھا جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مثبت 4.8فیصد ہوگیا ہے۔ انہوں نے وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی متعارف کرانے کو بھی سراہا۔ میاں طارق مصباح نے کہا کہ صنعتی علاقوں میں زمین کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے صنعتی وسعت کا عمل متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سادہ لیزنگ پالیسی متعارف کرائی جائے جس کے ذریعے موجودہ اور نئی انڈسٹریل سٹیٹس طویل المدت لیز کے لیے جگہ فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ سرٹیفیکیشن اور ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش نہیں ہے،موجودہ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا معیار بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیروریٹڈ کی سہولت پانچ سیکٹرز کو دی گئی ہے، یہ سہولت فارماسیوٹیکل، چاول، حلال گوشت، انجینئرنگ کے شعبوں کو بھی دی جائے۔ انہوں نے سکل ڈویلپمنٹ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایس ایم ایز، بالخصوص انجینئرنگ سیکٹر کو ٹیکنالوجی تک محدود رسائی ہونے کی وجہ سے یہ برآمدات کے فروغ میں خاطر خواہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں، اس معاملے کی طرف بھی فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر محمد ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے بھی صنعت و تجارت کو درپیش مسائل تفصیل سے اجاگر کئے اور ان کے حل کےلئے تجاویز دیں۔