نیویارک ۔20نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ذیلی کمیٹی نے بیرونی و نوآبادیاتی تسلط کے خلاف انسانوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں پاکستان کی پیش کردہ قرارداد کی متفقہ طور پر توثیق کر دی ہے۔پاکستان نے یہ قرارداد معاشرتی امور ، ثقافت اور انسانی ہمدردی کے معاملات کو دیکھنے والی اقوام متحدہ کی 193 رکنی کمیٹی میں 71 ممالک کی حمایت سے پیش کی تھی۔ قرارداد …
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی نے بیرونی و نوآبادیاتی تسلط کے خلاف پاکستانی قرارداد کی متفقہ توثیق کر دی

مزید خبریں
نیویارک ۔20نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ذیلی کمیٹی نے بیرونی و نوآبادیاتی تسلط کے خلاف انسانوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں پاکستان کی پیش کردہ قرارداد کی متفقہ طور پر توثیق کر دی ہے۔پاکستان نے یہ قرارداد معاشرتی امور ، ثقافت اور انسانی ہمدردی کے معاملات کو دیکھنے والی اقوام متحدہ کی 193 رکنی کمیٹی میں 71 ممالک کی حمایت سے پیش کی تھی۔ قرارداد مقبوضہ کشمیر اورفلسطین سمیت دیگر خطوں میں حق خودارادیت کی عوامی جدوجہد کے لئے بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہاں کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق مل سکے ۔ پاکستان 1981 سے اس موقف کو بین الاقوامی فورمز پر پیش کرتا رہا ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ ماہ جنرل اسمبلی بھی اس قرارداد کی توثیق کر دے گی۔قرارداد میں دنیا کے کچھ خطوں میں غیر ملکی فوجی مداخلت ، جارحیت اور قبضے کی کارروائیوں کی ذمہ دار ریاستوں سے مطالبہ کیا گیاہےکہ وہ فوجی مداخلت،قبضے ، تشدد، جبر ، امتیازی سلوک سمیت تمام استحصالی اقدامات کو فوری طور پر ختم کریں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قابض ممالک کے جابرانہ ہتھکنڈوں کے باعث بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے۔ قرارداد میں انسانی حقوق کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی فوجی مداخلت ، جارحیت اور قبضے کے نتیجے میں انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے ۔ قرارداد میں سیکرٹری جنرل سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے جنرل اسمبلی کے اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کریں ۔ اقوام متحدہ میں قرارداد کا مسودہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے کہا کہ حق خودارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر کا بنیادی اصول ہے جس کی تائید بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون بھی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت کے عالمگیر کردار کی تصدیق اور غیر ملکی قبضے اور مداخلت کی صورتوں میں اس کے مستقل لاگو ہونے کے حوالے سے یہ قرارداد ان لاکھوں لوگوں کے لئے امید کی کرن ہے جو اس بنیادی حق کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستانی سفیر نےاس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے گزشتہ سال 5 اگست سے نافذ جابرانہ لاک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی تیمور اور افریقی ملک نمیبیا کے عوام آزادانہ و منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنا حق خودارادیت حاصل کرچکے ہیں تاہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اس حق سے محروم رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قابض ممالک لوگوں کا حق خودارادیت کچلنے کے لئےتشدد اور وحشیانہ طرزعمل کا سہارا لیتے ہیں اور اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے ماورائے عدالت قتل ، اندھادھند گرفتاریوں ، گمشدگیوں ، کرفیو ، مواصلاتی بندش ، لاک ڈاؤن ، غیر قانونی آباد کاریوں اور نو آبادیاتی تبدیلیوں جیسے حربے بھی آزمائے جارہے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ان غیر قانونی حرکتوں سے اقوام متحدہ کے چارٹر ، بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حق خود ارادیت کو بزور دبانے کے لئے قابض ممالک حریت پسندوں پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم جدید دور کے اِن نوآبادیاتی عناصر کا چہرہ آہستہ آہستہ بے نقاب ہورہا ہے۔








