اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین بچوں کو واضح حقوق فراہم کرتا ہے، پاکستان نے بچوں کے حقوق کے بارے میں عالمی کنونشن پر بھی دستخط کر رکھے ہیں، ملک میں بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں بہت سے قوانین بن چکے ہیں لیکن لوگوں کو ان قوانین کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے باعث …
بچوں کے تحفظ کے لئے تیار کئے گئے قوانین پر بھرپور طریقے سے عمل درآمد کیا جانا چاہیے، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا بیان

مزید خبریں
اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین بچوں کو واضح حقوق فراہم کرتا ہے، پاکستان نے بچوں کے حقوق کے بارے میں عالمی کنونشن پر بھی دستخط کر رکھے ہیں، ملک میں بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں بہت سے قوانین بن چکے ہیں لیکن لوگوں کو ان قوانین کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے باعث ان قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ’عالمی یوم اطفال‘ کے موقع پر جمعہ کو اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ 20 نومبر کو پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بہت سے قوانین بن چکے ہیں لیکن لوگوں کو ان قوانین سے متعلق معلومات نہ ہونے کے باعث ان قوانین پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قوم کی ذہنیت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس ضمن میں ہم نے آگاہی پروگرام بھی شروع کر دیئے ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے زینب الرٹ ایپ بھی شروع کر دی ہے، اگر کسی بچے کے ساتھ ظلم اور تشدد ہوتا ہے تو اس ایپ پر فوراً رپورٹ کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایپ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے ہر ضلع میں دستیاب ہے اور کوئی بھی شہری اس ایپ پر شکایت درج کرا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی حدود میں پہلی مرتبہ چائلڈ ڈومیسٹک لیبر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چائلڈ لیبر سروے کا بھی آغاز کیا ہے کیونکہ جب تک پوری معلومات ڈیٹا کے تحت دستیاب نہیں ہوں گی، اس وقت تک پالیسی صحیح طریقے سے تشکیل نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ آئین پاکستان میں دیئے گئے بچوں کے حقوق اور بچوں کے تحفظ کے لئے جو قوانین تیار کئے گئے ہیں انہیں پوری طرح نافذ کرے، اس کے علاوہ ہم اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی پوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے ہمیں عام شہریوں، میڈیا اور این جی اوز کی حمایت درکار ہے تاکہ پاکستان کو ایسا ملک بنایا جا سکے جہاں بچے اپنے خواب پورےکر سکیں۔








