کسی شخص یا گروہ کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے، حافظ طاہر محمود اشرفی

لاہور۔22نومبر (اے پی پی):مر کزی چیئرمین پاکستان علما کونسل و معاون خصوصی وزیراعظم برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطی حافظ علامہ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان تمام پاکستانیوں کا ہے ہر ایک کا حق آئین و قانون نے بتا دیا ہے، وزیر اعظم کا وزن ہے کسی پاکستانی کو جھتہ یا گروہ سے خوفزدہ نہیں ہوناچاہئے،علامہ طاہر اشرفی نے اتوار کے روز سینٹ انتھونی ہال کیتھولک …

لاہور۔22نومبر (اے پی پی):مر کزی چیئرمین پاکستان علما کونسل و معاون خصوصی وزیراعظم برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطی حافظ علامہ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان تمام پاکستانیوں کا ہے ہر ایک کا حق آئین و قانون نے بتا دیا ہے، وزیر اعظم کا وزن ہے کسی پاکستانی کو جھتہ یا گروہ سے خوفزدہ نہیں ہوناچاہئے،علامہ طاہر اشرفی نے اتوار کے روز سینٹ انتھونی ہال کیتھولک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان توہین رسالت کا قانون موجود ہے ہم کسی شخص یا گروہ کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے،اس موقع پر مولانا بلال طاہر سمیت مختلف مذاہب اور مکاتب کے رہنما بھی موجود تھے۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ یکم دسمبر کو بین المذاہب کانفرنس کے انعقاد سے چھوٹے مسائل کوحل کریں گے،جبکہ فرانس واقعہ پر تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو خط لکھا کہ اقوام متحدہ میں قانون سازی کروائیں تاکہ تمام مقدس کتاب اور تمام انبیاءکا احترام کریں ،علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ کوئی شخص حضرت عیسی یا موسی کاانکار کرے تو مسلمان نہیں، اور عالمی دنیا سلامی فوبیا سے باہر نکلے ،علامہ طاہر اشرفی نے عوا م سے اپیل ہے کہ کرونا سے احتیاط کریں، کرونا کا مرض تیزی سے پھیل رہاہے جو اس مرض میں مبتلا ہوا ان سے پوچھیں ۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہرمحمود اشرفی کاکہناہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ وفاقی حکومت کا جو وعدہ اور معاہدہ ہے اس پر مکمل عمل کریں گے ، کرونا پر سیاسی و مذہبی رہنما سیاست نہ کریں۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہرمحمود اشرفی کا پریس کانفرنس کے دوران کہناتھاکہ پاکستان میں توہین رسالت کا قانون موجود ہے کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔مولانا طاہر اشرفی نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیاکہ کورونا پھر سر اٹھا رہاہے وہ خودکوروناسے روبصحت ہوئے ہیں۔ سب لوگ ماسک کا استعمال کریں،،ان کاکہناتھاکہ مدارس کے بچوں کو سیاست سے دور رکھا جائے۔

مزید خبریں