اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیط شیخ نے کہاہے کہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری پرتوجہ کے زریعہ لوگوں کوبااختیاربنانا حکومت کا ایجنڈاہے ، سخت گیرمالیاتی نظم وضبط، حکومتی اخراجات میں کمی ، محصولات میں اضافہ ، مارکیٹ کی حرکیات پرمبنی ایکسچینج ریٹ اوردرآمدات کی حوصلہ شکنی جیسے اقدامات کے نتیجہ میں پاکستان نے مالیاتی اورحسابات جاریہ کے خساروں پرقابوپانے میں قابل ذکربہتری کامظاہرہ کیاہے ۔انہوں …
مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا عالمی اقتصادی فورم کے پلینری سیشن ’’ کنٹری سٹریٹجی ڈائیلاگ ‘‘سے ویڈیولنک خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیط شیخ نے کہاہے کہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری پرتوجہ کے زریعہ لوگوں کوبااختیاربنانا حکومت کا ایجنڈاہے ، سخت گیرمالیاتی نظم وضبط، حکومتی اخراجات میں کمی ، محصولات میں اضافہ ، مارکیٹ کی حرکیات پرمبنی ایکسچینج ریٹ اوردرآمدات کی حوصلہ شکنی جیسے اقدامات کے نتیجہ میں پاکستان نے مالیاتی اورحسابات جاریہ کے خساروں پرقابوپانے میں قابل ذکربہتری کامظاہرہ کیاہے ۔انہوں نے یہ بات بدھ کوعالمی اقتصادی فورم کے پلینری سیشن کے دوسرے حصہ میں کنٹری سٹریٹجی ڈائیلاگ سے ویڈیولنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیراعظم کے مشیرنے فورم کے شرکا کو 2018 میں موجودہ حکومت کوورثہ میں ملنے والی مشکل اقتصادی مسائل ومشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے اس صورتحال کے تناظرمیں سخت مالیاتی نظم وضبط متعارف کرایا، حکومتی اخراجات میں کمی کی گئی،محصولات میں اضافہ کیاگیا، مارکیٹ کی حرکیات پرمبنی ایکسچینج ریٹ کا تعین کیا گیا، ٹیکس کے شعبوں میں بڑے پیمانے پراستثنیٰ کو ختم کردیاگیا،اسی طرح برآمدات کی حوصلہ افزائی اوردرآمدات کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ان اقدامات کے نتیجہ میں پاکستان نے مالیاتی اورحسابات جاریہ کے خساروں پرقابوپانے میں نمایاں بہتری کامظاہرہ کیا۔اسی طرح پرائمری بیلنس فاضل ہوگیاجس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔وزیراعظم کے مشیرنے کہاکہ کوویڈ19 سے قبل تمام بنیادی معاشی اشاریے بہتری کی عکاسی کررہے تھے، کوویڈ 19 کے دوران حکومت نے سمارٹ لاک ڈاون کی پالیسی متعارف کرائی تاکہ وبا کے پھیلاوکوروکنے کے ساتھ ساتھ معیشت اورمعاشی سرگرمیوں کو بھی فعال اورمتحرک رکھا جاسکے۔سمارٹ لاک ڈاون کے دوران کئی کاروباری شعبوں کوکاروبارکھولنے یا محدود پیمانے پرچلانے کی اجازت دی گئی تاکہ معاشرے کے انتہائی غریب اورکمزورطبقات پراس کے مضراثرات کو کم کیا جاسکے۔ان طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ذریعہ ایک کروڑ50 لاکھ خاندانوں کو نقد امدادفراہم کی ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے کوویڈ 19 کے دوران زراعت اورتعمیرات کے شعبوں کو سہولیات دینے کیلئے کئی اقدامات کئے ، ان اقدامات کامقصد معاشی بحالی کے عمل کوتیز کرناتھا۔چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارکیلئے ریلیف پیکج دیا گیا تاکہ اس شعبہ سے وابستہ افراد کوکیش کے بحران اوریہاں کام کرنے والے ملازمین کے روزگارکوتحفظ فراہم کیا جاسکے۔ مشیرخزانہ نے کہاکہ حالیہ ڈیٹا سے اس بات کی عکاسی ہورہی ہے کہ پاکستان کی معیشت بحالی کی راہ پرگامزن ہے، کوویڈ 19 کے باوجودپاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہواہے جو پاکستان کی معیشت پربین الاقوامی برادری کے اعتماد کامظہرہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نجی شعبہ کومعاونت فراہم کرنے میں پرعزم ہے،نجی شعبہ معاشی بڑھوتری کاانجن ہے،حکومت پائیداراورجامع بڑھوتری کیلئے ادارہ جاتی استعدادکارمیں اضافہ پریقین رکھتی ہے۔پاکستان نے سرمایہ کاری کیلئے آزادانہ اور پرسہولت طریقہ کاروضع کیاہے، حکومت نے ملک میں کاروبارکوآسان بنانے کیلئے بھی کئی اقدامات کئے ہیں۔مشیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان کی قیادت غیرملکی سرمایہ کاری کاخیرمقدم کرتی ہے اورشفافیت، احتساب اورکھلے پن پریقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری پرتوجہ کے زریعہ لوگوں کوبااختیاربنانا ہمارا ایجنڈاہے۔








