لاہور۔25نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا سے یومیہ اموات 50سے بھی بڑھ چکی ہیں،بطور قوم احتیاط نہ کی تو کورونا کیسز میں اضافہ کے ساتھ ساتھ معیشت بھی متاثر ہو گی‘سماجی فاصلوں اور ایس او پیز پر عملدرآمد کر کے ہی کورونا کو شکست دی جاسکتی ہے ‘ پاکستان واحد ملک ہے جس نے رمضان المبارک میں مسجدیں بند نہیں کیں‘عوام اور علماءکرام نے …
وزیر اعظم عمران خان کی لاہور میں میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔25نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا سے یومیہ اموات 50سے بھی بڑھ چکی ہیں،بطور قوم احتیاط نہ کی تو کورونا کیسز میں اضافہ کے ساتھ ساتھ معیشت بھی متاثر ہو گی‘سماجی فاصلوں اور ایس او پیز پر عملدرآمد کر کے ہی کورونا کو شکست دی جاسکتی ہے ‘ پاکستان واحد ملک ہے جس نے رمضان المبارک میں مسجدیں بند نہیں کیں‘عوام اور علماءکرام نے جس طرح پہلے کورونا وبا کو کنٹرل کرنے کےلئے حکومت کے ساتھ پورا تعاون کیا ،آج پھر اس تعاون کی ضرورت ہے‘کورونا سے بچاتے بچاتے لوگوں کو بھوک سے نہیں مار سکتے، اس لئے کاروبار اور فیکٹریز بندنہیں کریں گے‘کورونا وبا کے دوران جلسے جلوسوں کی اجازت نہیں دی سکتے‘اپوزیشن جتنے مرضی جلسے کر لے ،این آر او نہیں ملے گا‘معاشی لحاظ سے پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے‘فیصل آباد میں فیکٹریاں تیزی سے چل اورمزدوروں کی کمی کا سامنا ہے‘قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کی وجہ سے معاشی مشکلات درپیش ہیں،قسطیں نہ ادا کرنی پڑیں تو ہماری آمدن اخراجات سے زائد ہے‘اوورسیز پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں‘پنجاب میںقبضہ گروپ کے خاتمے کےلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں‘شوگر مافیانے گٹھ جوڑ سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا‘راوی ریور منصوبے کے تحت60لاکھ درخت لگائے جائیں گے‘ کامیاب خارجہ پالیسی سے دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج ابھرا ہے‘ ہم نے کشمیر کے معاملہ میں بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا‘ڈومور کا مطالبہ کرنیوالاامریکہ آج ہماری تعریف کر رہا ہے‘ ترکی‘ایران‘ افغانستان ‘سعودی عرب اوریو اے ای ‘سے بہت اچھے تعلقات ہیں‘جب تک اسرائیل فلطسین کو آزادی نہیں دیتا، اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم بڑی مشکلوں سے ایک ایسے معاشی حالات سے نکلے ہیں باقی ممالک اس معاملے میں اتنے خوش قسمت نہیں تھے‘دنیا بھر کے معاشی حالات بہت متاثر ہوئے ،خاص طور پر ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بہت زیادہ اموات ہوئیں اور معاشی حالات بھی ابتر رہے‘لیکن اللہ تعالی کے فضل سے ہم نے مثبت پالیسوں سے نہ صرف کورونا کا دفاع کیا بلکہ اپنی معاشی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا جس کی پوری دنیا معترف ہے‘بھارت اور بنگلہ دیش میں کورونا وبا کے دوران برآمدات کم ہوئیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہماری برآمدات بڑھیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کی حالیہ دوسری لہر سے جس طرح کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں ‘ہمارے ڈاکٹرز‘نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر بھی کافی پریشر آرہا ہے‘اگر ہم نے اس کا مل کر مقابلہ نہ کیا تو معاملات مزید خراب ہو سکتے ہیں‘اس لئے قوم سے اپیل ہے کہ کورونا سے بچاؤکے لئے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کریں اور ماسک پہنیں۔انہوں نے کہا کہ تمام اداروں اور عوام کو مل کر اس چیلجز کا مقابلہ کرنا ہوگا‘ پاکستان واحد ملک ہے جس نے رمضان المبارک میں مسجدیں بند نہیں کیں‘عوام اور علما نے جس طرح پہلے کورونا وبا کو کنٹرل کرنے کےلئے حکومت کے ساتھ پورا تعاون کیا آج پھر اسی تعاون کی ضرورت ہے‘دو ہفتے کے اندر اموات 50 تک پہنچ گئیں ہیں‘ایس او پیز پر عملدرآمد کر کے ہی اس وبا سے بچا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر احتیاط نہ کی تو اموات بڑھتی جائیں گی‘ ہمیں کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جہاں لوگ زیادہ جمع ہوں‘ کورونا کی صورتحال دیکھتے ہوئے ہی ہم نے اپنا جلسہ ختم کر دیا تھا‘موجودہ صورتحال میں جلسوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘ اپوزیشن جلسے جلوس کرکے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے لیکن انہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی این آر او ملے گا۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے بچاتے بچاتے ہم دیہاڑی دار طبقہ اور محنت کشوں کو بھوک سے نہیں مار سکتے اس لئے کاروبار اور فیکٹریز بند نہیں کی جا رہی ہیں ، اس حوالے سے فیصل آباد میں حالیہ دورہ کے دوران تاجر برادری کو یقین دہانی کروائی گئی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ لاہور میں راوی ریور ڈویلپمنٹ منصوبہ اور کراچی میں بنڈل آئی لینڈ منصوبہ دونوں بہت اہمیت کے حامل ہیں‘لاہور اور کراچی میں ماحولیاتی آلودگی کے علاوہ پانی اور مسائل آنے والے دنوں میں بہت خطرناک ہو سکتے ہیں‘راوی ریور منصوبہ کا مقصد لاہور کو بچانا ہے اور بنڈل آئی لینڈ منصوبہ کا مقصد کراچی کو بچانا ہے‘ لاہور کا سب سے بڑا مسئلہ پانی اور آلودگی ہے‘ پچھلے 20سال میں لاہور شہر کی آبادی میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا‘ راوی ریور سٹی اور دوسرا کراچی بنڈل آئی لینڈز پاکستان کے لیے ضروری ہے‘ بغیر منصوبہ بندی پلاننگ کی وجہ سے سارا کچرا راوی میں چلا جاتا ہے‘کراچی اور لاہور کے منصوبوں سے زرمبادلہ بھی پاکستان میں آئے گا ۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اوردونوں بڑے منصوبوں میں اووسیز پاکستانی گہری دلچسپی لے رہے ہیں‘راوی ریور منصوبے کے تحت60لاکھ درخت لگائے جائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ معاشی لحاظ سے پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے‘قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کی وجہ سے معاشی مشکلات درپیش ہیںقسطیں نہ ادا کرنی پڑیں تو ہماری آمدن اخراجات سے زائد ہے‘ڈالر کی قیمتیں کم ہو رہی جو حکومت کی مثبت معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قبضہ گروپ کے خاتمے کےلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں‘یہ قبضہ گروپس بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کرلیتے ہیں‘ کچھ سیاسی جماعتیں بھی قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شوگر مافیانے گٹھ جوڑ سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا، حکومت نے فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کرکے چینی اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام پیدا کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب جا رہی ہے‘ گزشتہ ادوار میں دنیا میں پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک کے طور جا نا جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسیوں سے دنیا میں پاکستان کا ایک مثبت امیج ابھرا ہے‘دنیا بھر میں پاکستان کو اب عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، امریکہ ہمیں پہلے ڈو مور کا مطالبہ کرتا تھا جبکہ آج وہ ہماری تعریف کر رہا ہے‘ افغانستان‘ ترکی‘ایران‘سعودی عرب ‘یو اے ای اور دیگر ممالک سے ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں‘پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کروائے‘موثر لابنگ سے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا‘کشمیرہماری شہ رگ، اس کی آزادی کے لئے تمام فورم استعمال کئے جارہے ہیں‘کشمیروں پر ظلم کے حوالے سے بھی دنیا میں بھارت کو بے نقاب کیا ہے‘اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ جب تک فلطسینیوں کوان کا حق نہیں ملتا،اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔








