اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی معیشت مستحکم کرنے پر توجہ دی، ہم اقتصادی طور پر ہر درست سمت میں گامزن تھے لیکن دیگر ممالک کی طرح ہمارا ملک کووڈ۔19 سے متاثر ہوا، کورونا سے معیشت متاثر ہوئی اور یہ غیر متوقع صورتحال تھی، لاک ڈائونز کی صورتحال کا قبل ازیں کسی کو بھی تجربہ نہیں تھا۔ بدھ کو عالمی اقتصادی فورم …
وزیراعظم عمران خان کا عالمی اقتصادی فورم کے زیر انتظام کووڈ۔19 سے نمٹنے اور معاشی بحالی کیلئے حکومت پاکستان کے اقدامات کے حوالہ سے ”پاکستان سٹرٹیجی ڈائیلاگ“ سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی معیشت مستحکم کرنے پر توجہ دی، ہم اقتصادی طور پر ہر درست سمت میں گامزن تھے لیکن دیگر ممالک کی طرح ہمارا ملک کووڈ۔19 سے متاثر ہوا، کورونا سے معیشت متاثر ہوئی اور یہ غیر متوقع صورتحال تھی، لاک ڈائونز کی صورتحال کا قبل ازیں کسی کو بھی تجربہ نہیں تھا۔ بدھ کو عالمی اقتصادی فورم کے زیر انتظام کووڈ۔19 سے نمٹنے اور معاشی بحالی کیلئے حکومت پاکستان کے اقدامات کے حوالہ سے ”پاکستان سٹرٹیجی ڈائیلاگ“ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے، عوام کو بیماری سے تحفظ اور لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچانے کیلئے اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں مکمل شٹ ڈائون یا لاک ڈائون کا کسی کو بھی تجربہ نہیں تھا تاہم لاک ڈائون کے نفاذ کے بعد جلد ہی حکومت پاکستان نے عوام کو بھوک سے مرنے سے بچانے کی حکمت عملی اپنائی اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کارکنوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جن کے خاندان یومیہ یا ہفتہ وار اجرت پر انحصار کرتے تھے، جب لاک ڈائون ہوا تو یہ لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے، یہ کارکن معیشت کے غیر روایتی شعبوں میں کام کرتے تھے اور مزدوری سے اپنے اہلخانہ کا پیٹ پالتے تھے، پاکستان میں 80 فیصد لیبر غیر روایتی شعبوں میں کام کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم امریکہ کی طرح اپنے عوام کے بینک اکائونٹس میں رقوم منتقل نہیں کر سکتے تھے اس لئے ہمیں جلد احساس ہوا کہ ہم یورپ کی طرح مکمل لاک ڈائون کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی اختیار کی اور مکمل لاک ڈائون کی بجائے مخصوص علاقوں اور ہاٹ سپاٹس کا لاک ڈائون کیا کیونکہ ہم بھوکے عوام پر مکمل لاک ڈائون نہیں کر سکتے تھے، اس لئے پاکستان نے دیگر ممالک کی نسبت جلد ہی اپنی معیشت کے بعض شعبوں کو کھولا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے زرعی شعبہ کو کبھی بھی لاک ڈائون نہیں کیا تاکہ دیہی عوام کی زندگی متاثر نہ ہو بلکہ ہم نے اپنی تعمیرات کی صنعت کو بھی جلد ہی کھول دیا جو زیادہ تر شہروں میں تھی لیکن عموماً کھلی جگہ پر کام کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے 15 ملین سے زیادہ خاندانوں کیلئے کیش پروگرام کا آغاز کیا جو ایک بہترین پروگرام ہے اور حقیقت میں اس پروگرام سے ہم نے عوام کو لاک ڈائون کے ثمرات سے تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون سے ہم نے دیگر کسی بھی ملک کی نسبت وائرس کے پھیلائو پر بہتر طور پر قابو پایا، ہم نے اپنی معیشت کو کووڈ۔19 کے منفی اثرات سے بچانے کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کو بھوک سے مرنے سے بھی بچایا، اب ہمیں وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے لیکن عوام پہلے جیسی احتیاطی تدابیر نہیں کر رہے اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ دوسری لہر کتنا عرصہ رہے گی کیونکہ اب سردیاں ہیں، یہ امور باعث تشویش ہیں، ہم نے کووڈ کی پہلی لہر سے یہ سبق سیکھا کہ ہم جیسا ملک جہاں غربت کی شرح زیادہ ہو، نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور بے روزگاری کی شرح بھی زیادہ ہے ہم لاک ڈاﺅن اور کاروباری بندشوں کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لئے ہم نے پالیسی مرتب کی ہے کہ روزگار کی فراہمی کے سبب کاروباروں اور فیکٹریوں کو بند نہیں کریں گے، ہم صرف غیر ضروری اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کریں گے تاکہ ہماری معیشت متاثر نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ معیشت کے متاثر ہونے سے عوام پر پڑنے والے اثرات وائرس کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دو بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے، سب سے بڑا چیلنج مالیاتی خسارہ تھا، جب ہم اقتدار میں آئے تو پاکستان کو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی خسارہ کا سامنا تھا اور دوسرا حسابات جاریہ کا خسارہ تھا جو ایک ریکارڈ تک حد تک بڑھ چکا تھا، ہم نے پہلے ایک، ڈیڑھ سال معیشت کے استحکام، خسارہ جات میں کمی، اخراجات پر قابو، گورننس کی بہتری، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، مالیاتی نظم و ضبط پر توجہ دی۔ مزید برآں ہم نے درآمدات میں کمی اور برآمدات کے فروغ کے علاوہ پاکستان میں ترسیلات زر کی وصولیاں بڑھانے کے اقدامات کئے، ترسیلات زر ہماری معیشت کا بڑا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کے اضافہ کے اقدامات کئے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے منی لانڈرنگ پر قابو پایا کیونکہ ترقی پذیر دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جہاں پر غیر قانونی طور پر دولت بیرون ملک منتقل کی جاتی ہے، ان اقدامات کے نتیجہ میں 17 سال کے بعد گذشتہ سہ ماہی کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ سرپلس رہا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے اور ہمارے روپے کے مستحکم ہونے کی بھی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہماری کرنسی کی مارکیٹ کی بنیاد پر شرح تبادلہ کے تحت قیمت کا تعین ہوتا ہے۔ اب کچھ چند ماہ سے ہمارا روپیہ مستحکم ہے بلکہ اس کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں، ماضی میں کرنسی کی قیمت مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کی وجہ سے برآمدات کم ہوتی گئیں اور ہماری برآمدات اور درآمدات میں 40 ارب ڈالر کا بڑا فرق تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ برآمدی صنعت کو مراعات کی فراہمی سے برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ مزید برآں ہم نے عمومی صنعت کیلئے مراعاتی پیکیج متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 سے متاثر دیگر ممالک کے مقابلہ میں پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں ہر سٹاک ایکسچینج میں کاروباری حکومت پر اعتماد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کی صنعت کو مراعات کی فراہمی سے سیمنٹ کی فروخت میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری پوری استعداد سے کام کر رہی ہے، پاکستان میں ٹیکسٹائل کے مرکز فیصل آباد میں ٹیکسٹائل سمیت دیگر صنعتی کارکنوں کی قلت ہے، ہم نے پہلے معاشی استحکام کے اقدامات کئے اور اب ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اب ہم دوسری لہر کے بعد یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہمیں کتنا متاثر کرے گی۔ سی پیک کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ صرف چین کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ اس کے تحت پہلے مرحلہ میں رابطوں میں آسانی پر توجہ دی گئی اور ٹرانسپورٹ سمیت روڈ اور ریل نیٹ ورک کو توسیع دی گئی۔ اس کے علاوہ ہم نے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی کیونکہ ہمیں توانائی کی قلت کے مسائل درپیش تھے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی آبادی اور بہتر شرح نمو کیلئے ہمیں توانائی کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب سی پیک کا دوسرا مرحلہ رابطوں سے کہیں وسیع ہے جس میں خصوصی اقتصادی زونز بنا کر وہاں خصوصی مراعات دی جا رہی ہیں۔ اسی طرح زرعی شعبہ کی استعداد میں بہتری کیلئے ہمیں چین کے تجربات سے استفادہ درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چین کی مدد سے ٹیکنالوجی کے ادارے بنا رہے ہیں تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ای کامرس کی ترقی اور ہنرمند افرادی قوت دستیاب ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کو چین جیسی بڑی مارکیٹ سے ملاقات ہے۔ اسی طرح پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہم اپنی ریلویز کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں جو انقلابی تبدیلی ہو گی۔ ایم ایل ون کے تحت کراچی کو پشاور سے ملایا جا رہا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں ہم افغانستان کے راستے ازبکستان تک ریلوے نیٹ ورک کو توسیع دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت ہمارے لئے مسائل پیدا کر رہا ہے تاہم توقع ہے کہ مسائل کا خاتمہ ہو گا اور اگر ایران سے پابندیاں ہٹائی جائیں تو جنوب مغربی رابطوں میں اضافہ ہو گا اور پاکستان اپنے خصوصی سٹرٹیجک محل وقوع کے باعث ایک بڑی مارکیٹ اور انرجی کوریڈور بن جائے گا۔ ہمارا محل وقوع بڑا شاندار ہے اور سی پیک صرف چین کیلئے مختص نہیں بلکہ جو بھی اس میں شامل ہونا چاہے ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے افغانستان کے بارے میں کہا کہ افغانستان سے طویل عرصہ کے بعد امن کی بحالی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مسئلہ کو فوجی حل نہیں تھا اور اب آخر کار مذاکرات شروع ہوئے ہیں اور پاکستان نے امریکہ طالبان مذاکرات میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ بدقسمتی سے افغانستان میں تشدد بڑھ رہا ہے جو ہمارے لئے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن کو اہمیت دیتے ہیں جس کا بڑا فائدہ افغان عوام کو ہو گا، اس کے بعد پاکستان اور وسطی ایشیاءکے ممالک کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیاءمیں وسیع وسائل دستیاب ہیں جن سے استفادہ کی ضرورت ہے، افغانستان گوادر کے راستے دنیا سے جڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بڑی توقع ہے کہ افغانستان امن مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ افغانستان کی سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات دہشت گردی کی جنگ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وہاں پر لوگوں کی بحالی کیلئے افغانستان میں امن ضروری ہے جس سے سرحد کے ساتھ لوگوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی جو تجارت سے کہیں اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے افغان مذاکرات شروع کرائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تنازعہ طویل ہو جائے تو اس کا خاتمہ مشکل ہوتا ہے تاہم امید ہے کہ افغان مذاکرات کی کامیابی سے خطہ میں امن و امان کی بہتری میں مدد ملے گی، صدر ٹرمپ نے اہم کردار ادا کیا ہے اور توقع ہے کہ نومنتخب صدر بائیڈن اس کو جاری رکھیں گے کیونکہ مذاکرات ہی تنازعات کا حل ہو سکتے ہیں، ہم سب کو افغان امن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ روزگار کی فراہمی کیلئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت زیادہ لوگوں کو روزگار نہیں دے سکتی اس لئے نجی شعبہ کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ پاکستان زراعت، گورننس کی بہتری اور دیگر شعبوں میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے تحت اقدامات کرے گا۔ ای گورننس سے گورننس کے نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے، ہم حکومت کے تمام محکموں کو ای گورنمنٹ کے نظام سے منسلک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 220 ملین آبادی کی بڑی مارکیٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کاشتکاروں کی بہتری، ریٹیل اور ہول سیلز کے شعبوں کی بہتری اور غذائی افراط زر پر قابو پانے کے اقدامات کئے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاءدستیاب ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سربراہی میں کمیٹی قیمتوں میں کمی اور صارفین کی آسانی کے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کاشتکاروں کو ان کے درست معاوضوں کی ادائیگی چاہتے ہیں، اس وقت آڑھتی زیادہ کما رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ صارفین کو سستی اشیاءدستیاب ہوں۔ پاکستان میں بہترین پھل اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں لیکن مارکیٹ کے مسائل درپیش ہیں ہم برآمد نہیں کر سکتے، اس حوالہ سے ہم عالمی برادری کی معاونت چاہتے ہیں۔ اسی طرح حکومت آٹو موبائلز کے سرمایہ کاروں کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور یہاں سے برآمدات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس حوالہ سے جامع مراعات دے رہے ہیں۔ اسی طرح کووڈ۔19 کے بعد شرح نمو کی ترقی کیلئے الیکٹرک وہیکلز پالیسی متعارف کرائی ہے، ہماری حکومت ماحولیات پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کاروباری آسانیوں کی فراہمی کے انڈیکس میں 28 درجے ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 60ءکی دہائی میں ایک مثال تھا اور اس کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ بدقسمتی سے پھر پیچھے چلے گئے، ہماری شرح ترقی متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروبار کرنے اور منافع کمانے کی ہر ممکنہ سہولت دیں گے جس کیلئے ہم رکاوٹیں ختم کر رہے ہیں، ہم اس حوالہ سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبہ سے 30 فیصد صنعتیں منسلک ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم نے مراعات دی ہیں، اسی طرح ایس ایم ایز اور سرمائے کی مارکیٹ میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2020ءکا پاکستان کاروباری مواقع، صنعتوں کے قیام، لوگوں کو غربت سے نکالنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں توانائی مہنگی ہے، ہم چین کے اشتراک سے سستی توانائی کی فراہمی کے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں توانائی معاہدوں کی وجہ سے پاکستان میں 25 فیصد مہنگی بجلی پیدا کی جا رہی تھی لیکن حکومت اب دیگر ممالک کی طرح سستی بجلی کی فراہمی پر توجہ دے رہی ہے تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ حاصل ہو اور شرح غربت کم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔








