ریڈیو سکول اور ای تعلیم کا اجرا کورونا کی وجہ سے سکولوں کی بندش کے نقصان کا بہترین ازالہ ہے، راجہ راشد حفیظ

راولپنڈی۔6دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے کہا ہے کہ ریڈیو سکول اور ای تعلیم کا اجراکورونا کی وجہ سے سکولوں کی بندش کے نقصان کا بہترین ازالہ ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بروقت عملی قدم اٹھا کر صحیح معنوں میں ایک ویژنری لیڈر ہونے کا ثبوت دیا، ان حکومتی اقدامات سے اساتذہ اور طلبہ گھر بیٹھے درس و …

راولپنڈی۔6دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے کہا ہے کہ ریڈیو سکول اور ای تعلیم کا اجراکورونا کی وجہ سے سکولوں کی بندش کے نقصان کا بہترین ازالہ ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بروقت عملی قدم اٹھا کر صحیح معنوں میں ایک ویژنری لیڈر ہونے کا ثبوت دیا، ان حکومتی اقدامات سے اساتذہ اور طلبہ گھر بیٹھے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے، حکومت نے عوام الناس کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے تعمیر و ترقی کے جو عملی اقدامات اٹھائے ہیں ان سے عوام مستفید ہو رہے ہیں، ہم نے گھمبیر قومی مسائل سمیت لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جو روڈ میپ سوچا تھا اس کے لوازمات مکمل ہو چکے ہیں اور اب اس پر عمل درآمد سے استحصالی نظام ختم ہو جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں منعقد ہونے والی کھلی کچہری کے دوران عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد نے صوبائی وزیر کو اپنے اپنے علاقے کے اجتماعی و انفرادی مسائل سے آگاہ کیا جن کے حل کیلئے راجہ راشد حفیظ نے موقع پر ہی احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان عوامی مسائل کے حل پر پوری توجہ دیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ عوامی شکایات کا پوری طرح ازالہ ہو، راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ پانی، بجلی، گیس، سیوریج، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر اور عوام کو درپیش دیگر مسائل کے حل کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے تمام متعلقہ محکموں کو سختی کے ساتھ ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ ماضی کے برعکس ٹال مٹول کی بجائے لوگوں کو کارکردگی سے مطمئن کیا جائے اور ترقیاتی منصوبوں پر جو عوامی پیسے خرچ ہوتے ہیں ان کا عوام کو بہترین نعم البدل دیا جائے، انہوں نے کہا کہ استحصالی نظام کے مد مقابل صحیح معنوں میں عوامی نظام قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا مگر وزیر اعظم عمران خان نے عزم و استقلال کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات کے علاوہ بلدیاتی سطح پر عوام کو با اختیار بنانے کے عملی اقدامات پر کام کیا اور اب وہ لوازمات پورے ہو چکے ہیں جو عوام کا استحصال کرنے والے نظام کو اکھاڑ دیں گے، اس سلسلے میں عنقریب نئے بلدیاتی نظام کے تحت مقامی حکومتوں کے الیکشن ہوں گے جن کی تکمیل پر عوام حقیقی معنوں میں شریک اقتدار ہو جائیں گے اور وہ اپنے مسائل حل کرنے میں خود با اختیار ہوں گے۔