پشاور۔16دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو 262 بستروں پر مشتمل جدید امراض قلب ہسپتال پشاور کا افتتاح کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم کے ہمراہ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان،وزیر اعلی محمود خان،صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا،چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز،سیکرٹری صحت اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔اس ہسپتال سے خیبر پختونخوا اور ضم ہونے والے فاٹا کے اضلاع کے مریض مستفید ہوسکیں گے۔وزیر اعظم عمران …
وزیراعظم عمران خان نے 262 بستروں پر مشتمل جدید امراض قلب ہسپتال پشاور کا افتتاح کر دیا

مزید خبریں
پشاور۔16دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو 262 بستروں پر مشتمل جدید امراض قلب ہسپتال پشاور کا افتتاح کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم کے ہمراہ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان،وزیر اعلی محمود خان،صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا،چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز،سیکرٹری صحت اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔اس ہسپتال سے خیبر پختونخوا اور ضم ہونے والے فاٹا کے اضلاع کے مریض مستفید ہوسکیں گے۔وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اس منصوبے کےباضابطہ افتتاح کے بعد صوبے کےدل سے متعلقہ مریضوں کے علاج کے بڑے مطالبے کی تکمیل ہوئی ہے۔اس ہسپتال کے کھلنے کے بعد اب کے پی کے سے تعلق رکھنے والے مریض جنہیں علاج کے لئے دوسرے صوبوں اور اسلام آباد جانا پڑتا تھا اب انہیں ان کی دہلیز پردل سے متعلقہ بیماریوں کے علاج کی سہولت میسر آسکے گی۔اس سے جہاں انہیں سفری تکالیف سے نجات ملے گی وہاں ان کے پیسے کی بچت بھی ہوگی۔ابتدائی طور پریہ ہسپتال دل کے مریضوں کے لئے 160 بستر وں پر مشتمل ہوگا جسے بعد ازاں 262 بستروں کے ہسپتال تک وسعت دی جائے گی۔اس ادارے میں چھ جدید آپریشن تھیٹرز،چھ لیب،آکسیجن پلانٹ، ایکو،انجیوپلاسٹی اور دیگر متعلقہ سہولیات موجود ہوں گی۔اس ہسپتال کے آغاز سے دل کی سرجری سمیت دیگر علاج معالجے کی سہولیات مل سکیں گی۔یہاں باصلاحیت سرجنز اور کارڈیالوجسٹ کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت آنے کے بعد انہوں نے چیلنج سمجھ کر اس منصوبے کی تکمیل کی ایم ایم اے اور عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومتوں نے دس سال میں یہ منصوبہ مکمل نہیں کیا۔اس ہسپتال کے قیام سے پہلے کے پی کے اور انضمام شدہ اضلاع میں دل کے مریضوں کے لئے کوئی ہسپتال نہیں تھا۔حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں قائم یونٹ کے پی کے سے تعلق رکھنے والے 3کروڑ مریضوں کے لئے یہ سہولیات فراہم کررہے تھے۔اب اس ہسپتال سے نہ خیبرپختونخوا بلکہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے مریض بھی علاج کی سہولیات سے مستفید ہوسکیں گے۔جبکہ یہاں میڈیکل کے طالب علموں کو تحقیق اور تدریس کی سہولت بھی میسر ہوگی۔








