ہر حکومت چاہتی ہے سیاسی استحکام ہو، سینٹ الیکشن قانونی نکات کے مطابق ہوگا، پی ڈی ایم دراصل تضادات کا ایک مجموعہ ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ہر حکومت چاہتی ہے سیاسی استحکام ہو، سینٹ الیکشن قانونی نکات کے مطابق ہوگا، الیکشن کمیشن کا استحقاق ہے کہ سینٹ الیکشن کا شیڈول جاری کرے، سینٹ الیکشن میں ممبران کی خرید و فروخت کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، پی ڈی ایم دراصل تضادات کا ایک مجموعہ ہے، اپوزیشن نے اپنی چوری چھپانے …

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ہر حکومت چاہتی ہے سیاسی استحکام ہو، سینٹ الیکشن قانونی نکات کے مطابق ہوگا، الیکشن کمیشن کا استحقاق ہے کہ سینٹ الیکشن کا شیڈول جاری کرے، سینٹ الیکشن میں ممبران کی خرید و فروخت کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، پی ڈی ایم دراصل تضادات کا ایک مجموعہ ہے، اپوزیشن نے اپنی چوری چھپانے کے لئے ڈرامہ رچایا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 مارچ 2021ء کو سینٹ موجودہ اراکین کی مدت مکمل ہوگی، آئین و قانون کے مطابق الیکشن کمیشن سینٹ اراکین کی مقررہ مدت ختم ہونے سے 30 دن پہلے الیکشن کروا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کی خواہش ہوتی ہے کہ سیاسی استحکام ہو، ملک کی ترقی کے لئے اصلاحات لائی جائیں، اس لئے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے صرف ان اداروں کو مانتے ہیں جن کے فیصلے ان کے حق میں ہوں، اپوزیشن رہنما صرف ان چیزوں کو ٹھیک سمجھتے ہیں جن سے ان کو فائدہ ہو، الیکشن میں اگر یہ جیت جائیں تو الیکشن ٹھیک اور اگر ہار جائیں تو کہتے ہیں دھاندلی ہوئی ہے، اپوزیشن کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے باریاں لیں، ایک دوسرے کو بلیک میل کرتے رہے، ایک دوسرے کے خلاف کیسز بھی بنائے اور ایک دوسرے کو ضرورت پڑنے پر راستے بھی دیئے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن میں ممبران کی خرید و فروخت کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، 2018ء کے سینٹ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنے 21 ایم پی ایز کو پارٹی سے نکال دیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے ووٹ کا درست استعمال نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ سینٹ کا الیکشن آزادانہ اور شفاف طریقے سے ہو، ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے حکومت شو آف ہینڈز کے ذریعے سینٹ الیکشن کرانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم دراصل تضادات کا ایک مجموعہ ہے، (ن) لیگ میں گروپ بنے ہوئے ہیں، شہباز شریف، شاہد خاقان، سعد رفیق کے الگ الگ گروپ ہیں، پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت کے اپنے مفادات ہیں، ہر پارٹی کے بیانات دوسری سے مختلف ہیں، استعفوں کے معاملے پر بھی ان میں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) قانون اور آئین کی بات کیسے کر سکتی ہے، ان کا لیڈر نواز شریف ملک کے قانون اور آئین سے بھاگا ہوا شخص ہے، عدالت نے نواز شریف کو ایک مفرور قرار دیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو دی جانے والی رقم جہاں خرچ ہوتی ہے، اس کا حساب کون دے گا، پی ڈی ایم کی جنگ ملک کی بہتری کے لئے نہیں بلکہ انہوں نے اپنی چوری چھپانے کے لئے ڈرامہ رچایا ہوا ہے، اپوزیشن کو الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج چاہئیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا۔