پاکستانی نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں، حکومت نوجوانوں کی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کرنے کے لئے پرعزم ہے،وفاقی وزیر شفقت محمود کا کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں، حکومت نوجوانوں کی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کرنے کے لئے پرعزم ہے، پاکستان اپنے اعلیٰ تعلیمی نظام کو عالمی سطح پر مسابقتی اور بہتر بنانے کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان اور برٹش کونسل پاکستان کے زیر …

اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں، حکومت نوجوانوں کی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کرنے کے لئے پرعزم ہے، پاکستان اپنے اعلیٰ تعلیمی نظام کو عالمی سطح پر مسابقتی اور بہتر بنانے کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان اور برٹش کونسل پاکستان کے زیر اہتمام تین روزہ آن لائن پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں برطانیہ اور پاکستان سے اعلیٰ تعلیمی شعبہ اور جامعات کے ماہرین نے شرکت کی اور جامعات کی طرف سے کورونا کی صورتحال میں لئے گئے اقدامات پر آراءکا تبادلہ کیا اور اس بات پر غور کیا کہ کہ دونوں ممالک کے مابین تزویرائی بین الاقوامی تعلیم کے فروغ کے لئے باہمی اشتراک کو کیسے مزید مستحکم بنایا جائے۔ کانفرنس میں مختلف عنوانات پر سیشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں بین الاقوامی تعلیم کا فروغ، تعلیمی کورونا کے دوران قیادت کا کردار، بین الاقوامی اشتراک اور تعلیم کی عالمیت، فاصلاتی تعلیم کا مستقبل، اور بین الاقومی طلباءکی نقل و حرکت شامل ہیں۔ وزیر تعلیم شفقت محمود نے برطانوی نظام تعلیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ شراکت داری پاکستانی اعلیٰ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی باہمی شراکت داری کو سراہا اور کہا کہ پاکستان برٹش کونسل کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے برطانوی عوام کی فیاضی اور غیر ملکی پاکستانیوں کے ساتھ ان کے رویے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے مضبوط اعلیٰ تعلیمی شعبہ کی تشکیل نو میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری نے پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے کی کامیابیوں پر شرکاءکو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اس طرح کی شراکت داری کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا نے دنیا کو ڈرامائی طور پر بدل دیا ہے اور موجودہ صورتحال میں ایک دوسرے سے سیکھنے اور اپنے نصب العین کو مل کر آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر اختیار کردہ بہترین مشقوں اور اسباق میں باہم تبادلہ کیا جائے َتاکہ ایک دوسرے سے سیکھ کر آگے بڑھا جاسکے۔ انہوں نے شرکاءکو کورونا صورتحال میں تعلیمی حرج کو کم کرنے کے لیے ایچ ای سی کی جانب سے لیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے جنوبی ایشیاءکے لئے مقرر وزیر طارق محمود احمد نے کہا کہ ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی شراکت داری نے دوطرفہ تعاون کے نئے دور کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت پاکستان میں تعلیم کے فروغ کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں متعدد پاکستانی طلباءاس وقت تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ طلباءکی ایک بڑی تعداد گزشتہ چند سالوں میں اپنی تعلیم مکمل کر چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باہمی شراکت داری کے فروغ سے طلباءکی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو گا۔ واضح رہے کہ پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے کا آغاز 2018ءمیں کیا گیا۔ یہ منصوبہ پاکستانی اور برطانوی جامعات کے درمیان شراکت داری کے فروغ کے مقصد کے تحت شروع کیا گیا اور اب تک اس منصوبے کے تحت 21 سفری گرانٹس کے ذریعے 50 سے زائد فیکلٹی ممبران کو متعلقہ شعبے کے ماہرین سے ملنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، سات بڑے تحقیقی منصوبوں کا اجراءکیا جاچکا ہے، اور پروگرام کے تحت دونوں فریقین مختلف شعبہ جات میں تعاون کو پروان چڑھا رہے ہیں، جن میں نیشنل اکیڈیمی آ ف ہائیر ایجوکیشن پاکستان کی معاونت بھی شامل ہے۔ اسی طرح ایڈوانس ہائیر ایجوکیشن یوکے اور برطانیہ کی کوالٹی اشورنس ایجنسی ایچ ای سی کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کے انتظام و انصراف اور معیارتعلیم کے شعبہ جات پر کام کر رہے ہیں۔