پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی، لاہور کا جلسہ ہی نہیں پی ڈی ایم کا  بیانیہ بھی فلاپ ہو گیا، کوئی بھی کام ہو آئین و قانون کے مطابق کیا جائے گا، وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔17دسمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی، لاہور کا جلسہ ہی نہیں دراصل پی ڈی ایم کا بیانیہ فلاپ ہو گیا، کوئی بھی کام ہو آئین و قانون کے مطابق کیا جائے گا، سینٹ الیکشن پہلے کرانے کی ابھی تجویز آئی ہے جس پر بحث جاری ہے، پاکستان کا آئین کہتا ہے …

اسلام آباد۔17دسمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی، لاہور کا جلسہ ہی نہیں دراصل پی ڈی ایم کا بیانیہ فلاپ ہو گیا، کوئی بھی کام ہو آئین و قانون کے مطابق کیا جائے گا، سینٹ الیکشن پہلے کرانے کی ابھی تجویز آئی ہے جس پر بحث جاری ہے، پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ سینٹ کی میعاد ختم ہونے سے 30 دن قبل الیکشن کرایا جا سکتا ہے، اپوزیشن کو شو آف ہینڈز کے ذریعے سینٹ الیکشن کرانے پر کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن ایک ماہ پہلے کروانے کی ابھی تجویز ہے جس پر مشاورت کی جا رہی ہے، آئین کی شق 224 (3) پر عملدرآمد کرا سکتے ہیں، پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ سینٹ کی میعاد ختم ہونے سے 30 دن قبل الیکشن کرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سینٹ انتخابات میں شفافیت چاہتی ہے، اپوزیشن کو شو آف ہینڈز کے ذریعے الیکشن کرانے پر کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، مریم نواز کہتی ہیں کہ شو آف ہینڈ ٹھیک ہے لیکن میں اس کے خلاف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز  اگر مگر کی باتیں کر رہی ہیں، ان کے لئے ایسا کہنا بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ ”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں”۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن اب کھلم کھلا کہتی ہے سینیٹ الیکشن نہیں ہونے دیں گے، سینٹ الیکشن ایک ماہ پہلے ہو جاتے ہیں تو کیا فرق پڑ جائے گا، اپوزیشن کو اصل مسئلہ شو آف ہینڈز سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شو آف ہینڈ سے سینٹ الیکشن ہوتے تو (ن) لیگ کے 3 سینیٹر واپس آ سکتے ہیں،سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کا سینٹ سے صفایا ہو جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم سینٹ الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی، لاہور جلسے کے بعد انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے، لاہور کا صرف جلسہ ہی فلاپ نہیں ہوا بلکہ دراصل پی ڈی ایم کا بیانیہ فلاپ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ ناکام ہونے کے بعد یہ لوگ خوفزدہ ہیں، اپوزیشن جماعتیں جلسوں کا انعقاد ملک و قوم کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے کر رہی ہیں، سینٹ الیکشن ایک جمہوری عمل ہے اور اپوزیشن نے صرف سینٹ الیکشن کو روکنے کے لئے پورے ملک کو سر پر اٹھایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاست جھوٹ پر مبنی ہے، اپوزیشن چاہتی ہے کہ سب فیصلے  ان کی مرضی کے مطابق ہوں، یہ کوئی جمہوری ذہنیت نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) نے ملکی اداروں کے خلاف غلط بیانی کی، (ن) لیگ نے اپنے دور اقتدار میں بجلی کے مہنگے معاہدے کئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ حکومت کو بچانے کی کوشش کی جبکہ پاکستان تحریک انصاف ملک کو بچانا چاہتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پٹرولیم بحران کے حوالے سے وزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی، آئندہ چند روز میں کمیٹی کی رپورٹ آ جائے گی، پٹرولیم بحران کے ذمہ داران یا کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔