اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ جامع اورپائیداربڑھوتری کے ہدف کے حصول کیلئے حکومت موثرپالیسی سازی اورہدف پرمبنی اصلاحات کے ذریعہ معیشت کے مبادیات کودرست کرنے میں پرعزم ہے۔پیرکو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی رفارمز کے زیراہتمام ”پاکستان کوخوشحال بنانا:اقتصادی بڑھوتری اورترقی کیلئے حکمت عملی“ کے موضوع پرمنعقدہ ویبینارمیں انہوں نے کہاکہ اس وقت عالمی معیشتیں ایک غیرمثالی بحران کا سامناکررہی ہیں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ …
حکومت موثرپالیسی سازی اورہدف پرمبنی اصلاحات کے ذریعہ معیشت کے مبادیات کودرست کرنے کیلئے پرعزم ہے،وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کا ویبینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ جامع اورپائیداربڑھوتری کے ہدف کے حصول کیلئے حکومت موثرپالیسی سازی اورہدف پرمبنی اصلاحات کے ذریعہ معیشت کے مبادیات کودرست کرنے میں پرعزم ہے۔پیرکو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی رفارمز کے زیراہتمام ”پاکستان کوخوشحال بنانا:اقتصادی بڑھوتری اورترقی کیلئے حکمت عملی“ کے موضوع پرمنعقدہ ویبینارمیں انہوں نے کہاکہ اس وقت عالمی معیشتیں ایک غیرمثالی بحران کا سامناکررہی ہیں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمگیروبا کی وجہ سے عالمی معیشت میں 4.4 فیصد کا سکڑاوآسکتاہے، پاکستان اوردنیا کے دیگرحصوں میں کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ نے نئے چیلنجز کوجنم دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ جب موجودہ حکومت برسراقتدارآئی توملک کو مالیاتی، بیرونی ادائیگیوں سمیت کثیرالجہتی چیلنجوں کاسامناتھا،اس صورتحال میں حکومت نے سخت گیرمالیاتی نظم وضبط پرعمل پیراہونے کافیصلہ کیا، اس کے تحت بڑھتے ہوئے حکومتی اخراجات کوکم کردیا گیا، محصولات میں اضافہ کیاگیا، مارکیٹ کی حرکیات پرمبنی ایکسچینج ریٹ متعارف کرایا گیا، بڑے ٹیکس استثنٰی کا خاتمہ کیاگیا، جبکہ معیشت کودوبارہ پٹڑی پرڈالنے کیلئے درآمدات کی حوصلہ شکنی کی گئی،اس کے نتیجہ میں پاکستان نے مالیاتی اورحسابات جاریہ کے کھاتوں کے توازن میں نمایاں بہترکارگردگی دکھائی، ٹیکس وصول کرنے کی شرح میں 17 فیصد اضافہ ہوا، کوویڈ 19 سے قبل پاکستان نے آئی ایم ایف کے پہلے جائزہ کیلئے تمام مطلوبہ اقدامات کئے اورطریقہ کارکے مطابق اقدامات میں کامیابی حاصل کی گئی۔ وزیرخزانہ نے کورونا وائرس کے منفی اثرات اورمعاشرے کے غریب اورکمزورطبقات پران اثرات کوکم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جانیوالے اقدامات پرروشنی ڈالی اورکہاکہ لوگوں کی زندگیوں اورکاروبارکے تحفظ کیلئے حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اختیارکی، اس کے تحت لاک ڈاون کے باعث بندہونے والے کئی کاروبارکومکمل اوربعض کوجزوی طورپرکام کرنے کی اجازت دی گئی تاکہ معاشرے کے غریب اورکمزورطبقات پرکوویڈ19 کے منفی اثرات کو کم کیاجاسکے۔پاکستان کی سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کی دنیا بھرمیں پذیرائی ہوئی، کوویڈ19 وبا کے باوجود مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کا پرائمری بیلنس فاضل ہوگیاہے جو ایک بڑی کامیابی ہے، اسی طرح پاکستان نے ترسیلات زر، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری،برآمدات اوربڑی صنعتوں کی پیداوارمیں بہتری دکھائی ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ملکی معیشت کو استوارکرنے اورکوویڈ 19 سے متاثرہ معیشت کی بحالی کیلئے حکومت نے مالیاتی، زری اورتعمیراتی صنعت کیلئے پیکجز دئیے۔ہنگامی ردعمل، کاروبارمیں معاونت،اوربحران کے دنوں میں شہریوں کوریلیف فراہم کرنے کیلئے 1240 ارب روپے کا پیکج دیا گیا،اسی طرح تعمیرات کی صنعت کیلئے خصوصی پیکج کااعلان کیاگیا، اس پیکج میں ٹیکس میں استثنیٰ اورزراعانت شامل کئے گئے ہیں تاکہ ملکی معاشی بڑھوتری کویقینی بنایا جاسکے،احساس پروگرام سے 150 ملین خاندانوں کونقدمعاونت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ جامع اورپائیداربڑھوتری کے ہدف کے حصول میں حکومت موثرپالیسی سازی اورہدف پرمبنی اصلاحات کے ذریعہ معیشت کے مبادیات کودرست کرنے میں پرعزم ہے۔








