حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی تمام مسالک و مذاہب کے قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس

لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے تمام مذاہب و مسالک کے لوگ حکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں، اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے موجودہ حکومت نے بہت سارے اقدامات کیے ہیں، دوماہ سے جبری مذہب کی تبدیلی اور توہین ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں دو نمبر شہری نہیں ہیں، مذہب کے نام …

لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے تمام مذاہب و مسالک کے لوگ حکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں، اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے موجودہ حکومت نے بہت سارے اقدامات کیے ہیں، دوماہ سے جبری مذہب کی تبدیلی اور توہین ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں دو نمبر شہری نہیں ہیں، مذہب کے نام پر جبر اور خوف کسی کو نہیں پھیلانے دیں گے ، یہ بات چیئرمین پاکستان علما کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پیس سینٹر لاہور میں تمام مسالک و مذاہب کے قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پرصوبائی وزیر اعجاز عالم ، مولانا عبدالخبیر آزاد،علامہ زبیر عابد، حافظ نعمان حامد،سہیل احمد رضا،پادری عمائنول کھوکھر اور دیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان ملک میں ہم آہنگی اور رواداری کی فضا چاہتی ہے ،کسی کو توہین اور نفرت انگیز تقریر و تحریر کی اجازت نہیں دیں گے ، انہوں نے کہا کہ تمام آسمانی کتب ، مذاہب اور انبیا کا احترام لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری نے صحت اور تعلیم کے میدان میںبے شمار خدمات سر انجام دی ہیں۔ صوبائی وزیر اعجاز عالم نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق پنجاب میں بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کیلئے کوشاں ہیں۔ فادر جیمز چنن نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں اقلیتوں کے بہت سارے مسائل حل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے جبکہ موجودہ حکومت اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمیشن کی طرف سے پاکستان کو عدم مذہبی آزادی کے ممالک میں شامل کرنا افسوسناک ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مولانا شیرانی ، مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے بہتر جانتے ہیں وہ ان کی جماعت کے ذمہ دار ہیں، اسرائیل کے حوالہ سے پاکستانی قوم اور ریاست کی پالیسی وزیر اعظم بتا چکے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کا دورہ امارات اور سعودی عرب کی سفیر کی آرمی چیف اور وزیر اعظم سے ملاقات طے شدہ ہیں، ہر چیز میں ذرائع ابلاغ کو سنسنی نہیں پھیلانی چاہیے ، نیا سال ان شا اللہ پاک عرب تعلقات میں مزید مضبوطی ، استحکام کا سال ہو گا۔ میری تمام ذرائع ابلاغ اور سیاسی و مذہبی قائدین سے اپیل ہے کہ دوست ممالک کے حوالہ سے سیاست نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اور ہندوستانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش ہو رہی ہے ، ان سازشوں کو مل کر ناکام بنانا ہے۔