اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، بھارت فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، عالمی دنیا کبھی نہیں چاہے گی کہ بھارت خطے کا امن و استحکام دائو پر لگائے، متحدہ عرب امارات نے وقتی طور پر نئے ویزوں کے اجرا پر پابندی لگائی ہے، اپوزیشن کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے، پی ڈی ایم کا حکومت …
پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، بھارت فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، عالمی دنیا کبھی نہیں چاہے گی کہ بھارت خطے کا امن و استحکام دائو پر لگائے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، بھارت فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، عالمی دنیا کبھی نہیں چاہے گی کہ بھارت خطے کا امن و استحکام دائو پر لگائے، متحدہ عرب امارات نے وقتی طور پر نئے ویزوں کے اجرا پر پابندی لگائی ہے، اپوزیشن کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے، پی ڈی ایم کا حکومت پر کوئی دبائو نہیں ہے، پی ڈی ایم کو اپنے ذاتی ایجنڈے کو قومی ایجنڈے پر فوقیت نہیں دینی چاہیے، اپوزیشن جماعتیں قوم کو گمراہ مت کریں، ہر وقت سیاست کرنا سود مند نہیں ہوتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی صورتحال میں کوئی بگاڑ نہیں چاہتا، پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں بھی امن عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے اندرونی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں، کرسچن، اور سکھوں سمیت دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھارت کا رویہ بگڑتا جا رہا ہے، ہندوستان میں کسانوں کا احتجاج بھی کئی روز سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین میں بھارت بے نقاب ہوا ہے، انڈین کرونیکلز کے نام سے سامنے آنے والے حقائق میں بھارت کی جعل سازیوں، جعلی این جی اوز اور جعلی ویب سائٹس کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا فرض بنتا تھا کہ جو ہمارے پاس اطلاعات تھیں اس سے دنیا کو آگاہ کریں، ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اس سب صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارت کوئی فالس فلیگ کا بہانہ تلاش کرے گا یا کوئی سرجیکل سٹرائیک کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی دنیا کبھی نہیں چاہے گی کہ بھارت خطے کا امن و استحکام دائو پر لگائے، پوری دنیا میں امن پسند ممالک کی یہ خواہش ہوگی کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو، عالمی دنیا جانتی ہے کہ اگر ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کے درمیان صورتحال خراب ہوتی ہے تو اس سے پورے خطے کا امن متاثر ہو سکتا ہے، اس قسم کی بھارت کی کوشش ہو سکتی ہے لیکن اس کو اپنی کوشش میں کامیابی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی بھارت نے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی ہے تو دنیا نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور اپنے معاملات گفت و شنید کے ذریعے حل کئے جائیں۔ یو اے ای کی جانب سے ویزوں کی پابندی کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ پابندی صرف پاکستان پر نہیں ہے بلکہ دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہیں، کوویڈ۔19 اس کی بڑی وجہ ہے، کورونا کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں کاروبار متاثر ہوا ہے، تعمیراتی شعبہ متاثر ہوا، ہمارا بہت بڑا طبقہ تعمیراتی شعبے میں ملازمتیں لیتا تھا، کورونا کی وجہ سے انکی ایئر لائنز بحران کا شکار ہے، امارات ایئر لائنز میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگ تھے، انہوں نے اپنی ایئر لائن سے 20 سے 25 ہزار لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کیا، اسی لئے امارات نے نئے ویزوں کے اجراء پر پابندی لگائی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے وقتی طور پر نئے ویزوں پر پابندی لگائی ہے، جیسے جیسے وہاں کی معیشت میں بہتری آئے گی تو آئندہ کچھ وقت میں یہ عارضی پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان سے کوئی تقاضا نہیں کیا گیا، اس حوالے سے یو اے ای کے اپنے اقدامات اور اپنے فیصلے ہیں جبکہ پاکستان کا اسرائیل کے حوالے سے ایک تاریخی موقف ہے اور پاکستان اپنے موقف پر کاربند ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا ایک دیرپا اور پرامن حل نکلے۔ ایک اور سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے تھے اور اچھے ہیں، ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب نے ہمارا ساتھ دیا، کورونا وباء کی وجہ سے جہاں پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی ہے وہاں سعودی عرب کی معیشت کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تیل کی قیمتیں انہونی حد تک گری تھیں، جب ان کا آمدن کا بڑا ذریعہ متاثر ہوتا ہے تو ان کا بجٹ بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان آئی ایم ایف کے پاس گیا اس وقت پاکستان مشکل حالات سے گزر رہا تھا، مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی تھی اور وہ امدادی رقوم پاکستان نے سعودی عرب کو واپس کرنا تھیں، اگر سعودی عرب نے اس حوالے سے تقاضا کر دیا تو اس میں کچھ عجیب بات نہیں ہے، اب پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ہے تو ہم نے ان کے تقاضے کو پورا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے، کورونا کی دوسری لہر نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے جلسے محدود کر دیں یا کچھ وقت کے لئے ان کو موخر کر دیں تو یہ پاکستان کے مفاد میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی سیاسی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اپنے جلسوں کو موخر نہیں کیا لیکن عوام نے ان کو مسترد کر دیا، لاہور میں پی ڈی ایم کا ناکام شو تھا، عوام سمجھتی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا رویہ ذمہ دارانہ نہیں ہے، پی ڈی ایم کو اپنے ذاتی ایجنڈے کو قومی ایجنڈے پر فوقیت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا حکومت پر کوئی دبائو نہیں ہے، جلسے یا لانگ مارچ کرنا ایک سیاسی عمل ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو اس کا حق ہے جبکہ قومی تقاضا اس کے برعکس ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔ پی ڈی ایم کی جانب سے استعفے دیئے جانے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ پی ڈی ایم میں استعفوں کے معاملے پر یکسوئی نہیں ہے، ان کے اندر تضادات موجود ہیں، پیپلز پارٹی استعفے دینے سے ہچکچا رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی دو دھڑے ہیں اور ایک دھڑا استعفے دینے کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم استعفے دینے کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو استعفے اپنی لیڈرشپ کے پاس نہیں بلکہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں قوم کو گمراہ مت کریں، ہر وقت سیاست کرنا سود مند نہیں ہوتا۔








