اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاست پاکستان اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، مسیحی برادری کی خوشیوں میں پوری قوم شریک ہے ،مسیحی برادری کا کرسمس کی تقریبات کے حوالہ سے احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنے پر شکریہ …
اسلام میں جبری مذہب کی تبدیلی اور زبردستی کی شادیوں کی کوئی گنجائش نہیں، حافظ طاہر محمود اشرفی کی قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کی سربراہی میں وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاست پاکستان اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، مسیحی برادری کی خوشیوں میں پوری قوم شریک ہے ،مسیحی برادری کا کرسمس کی تقریبات کے حوالہ سے احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاءپر ایمان اسلام کی بنیادی شرط ہے، جبری شادی اور مذہب کی تبدیلی کا سلسلہ مکمل ختم کریں گے، اسلام جبر کی بنا پر کسی کو مسلمان بنانے کا حکم نہیں دیتا۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو یہاں قومی اقلیتی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر چیلا رام کی قیادت میں ملاقات کے لئے آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ تمام انبیاءکرام بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان ہمارے دین اسلام کا بنیادی جزو ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں جبری مذہب کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں، علماءمشائخ اور مختلف مذاہب کے اکابرین کی مشترکہ کوششوں سے اس ضمن میں اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ جنوری 2021ءکے دوسرے ہفتہ میں مختلف مذاہب اور مذہبی مکاتب فکر کی قیادت کا مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں ہوگا۔ قوانین پر عمل کے ساتھ عوام میں محبت و احترام کیلئے بھی بیداری مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جبری مذہب کی تبدیلی اور زبردستی شادیوں کے واقعات کے خاتمہ کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدم مذہبی آزادی کے مسئلہ پر بھارتی لابی کے ذریعے جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ بے نقاب ہو چکا ہے کیونکہ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو بھارت اور دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلہ میں زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حضرت محمدﷺ نے خواتین کیلئے بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کی حیثیت سے حقوق واضح کئے ہیں۔ دین اسلام میں خواتین کا مقام جو اسلام نے متعین کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی بیٹیاں بھی قوم کی بیٹیاں ہیں، ان کا تحفظ ریاست اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبری مذہب کی تبدیلی اور زبردستی کی شادیوں کے مسائل پر قانون سازی کو یقینی بنانے کے لئے ممتاز علماءاور مذہبی سکالرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مسالک و مکاتب فکر کے علماءاس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کے حقوق کا ہر سطح پر تحفظ ہونا چاہئے۔ ان کی عزت جان و مال محفوظ ہے اور جو کوئی قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے اس کے خلاف بھرپور کاروائی ہونی چاہئے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کیلاش برادری پاکستان کی محترم برادری ہے، کیلاش برادری کو اگر کوئی مسائل ہیں تو اس کے حل کیلئے وہ خود چترال کا دورہ کریں گے۔ قومی اقلیتی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر چیلا رام نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور حکومت کی طرف سے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کونمائندہ خسوصی مقرر کرنا درست سمت قدم ہے۔ حکومت نے اقلیتوں کے حقوق کیلئے جو اقدامات کا فیصلہ کیا ہے تمام اقلیتیں ان پر اعتماد کا اظہار کرتی ہیں اور حکومت کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اقلیتوں کے مسائل سے آگاہ ہیں اور اس حوالہ سے نمائندہ خصوصی کے دفتر سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔








