مریم نواز کی بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری ذاتی مفادات کی سیاست ہے، مریم نواز کچھ بھی کر لیں پیپلز پارٹی نے استعفے نہیں دینے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فرازکی نجی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد۔28دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مریم نواز کی بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری ذاتی مفادات کی سیاست ہے، بینظیر بھٹو کی برسی کو جلسے میں تبدیل کر دیا گیا، مریم نواز کچھ بھی کر لیں لیکن پیپلز پارٹی نے استعفے نہیں دینے، اپوزیشن جماعتیں ذاتی مفادات اور این آر او حاصل کرنے کے لئے کسی سے بھی ہاتھ …

اسلام آباد۔28دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مریم نواز کی بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری ذاتی مفادات کی سیاست ہے، بینظیر بھٹو کی برسی کو جلسے میں تبدیل کر دیا گیا، مریم نواز کچھ بھی کر لیں لیکن پیپلز پارٹی نے استعفے نہیں دینے، اپوزیشن جماعتیں ذاتی مفادات اور این آر او حاصل کرنے کے لئے کسی سے بھی ہاتھ ملا سکتی ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات بنائے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا پہلے مک مکا کا چکر ہوتا تھا، دونوں جماعتوں کا نظریہ ایک اور نہ ہی سوچ ایک ہے، اپوزیشن رہنما ہمارے ذاتی دشمن نہیں ہیں، ہم ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کے لئے پوری سیاست کو دائو پر لگانا دونوں پارٹیوں بالخصوص پیپلز پارٹی کے لئے زیادہ نقصان دہ ہے، پیپلز پارٹی نے ایک سیاسی مقصد حاصل کرنے کے لئے بینظیر بھٹو کے سیاسی نظریئے کو ڈبو دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی سیاسی تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کی برسی کو جلسے کی شکل دیدی، مریم نواز جتنی بھی کوشش کر لیں وہ بینظیر بھٹو کے مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں ، دعائیں کریں لیکن پیپلز پارٹی استعفے نہیں دے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی کرپشن کو بچانے، ذاتی مفادات اور این آر او حاصل کرنے کے لئے کسی سے بھی ہاتھ ملا سکتی ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے اپنے دور حکومت میں ملک کے قومی اداروں کا بیڑہ غرق کر دیا، پیپلز پارٹی نے پی آئی اے، سٹیل ملز، سٹیٹ لائف جیسے اداروں کو بٹھایا،سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں غربت، بیروزگاری اور بدامنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کیسز مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے دور اقتدار میں دوسری جماعت پر بنائے، اپوزیشن رہنما ہمارے ذاتی دشمن نہیں ہیں، ہم ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا پہلے مک مکا کا چکر ہوتا تھا، دونوں جماعتوں کا نظریہ ایک ہے اور نہ ہی سوچ ایک ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنما گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں، ان کی تقاریر میں ان کا ہدف وزیراعظم عمران خان اور فوج ہے، اپوزیشن نے اشارتاً اور ڈائریکٹ بھی یہ بات کی ہے کہ حکومت کر گرانا ہے، یہ لوگ کس طرح ایک منتخب حکومت کو گرا سکتے ہیں، کیا کسی غیر جمہوری طریقے سے حکومت کو ہٹانا چاہتے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں الیکشن میں دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں دے سکیں، یہ نہ تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس گئے اور نہ ہی کسی عدالت کے پاس گئے، دو سال تک انتظار کرتے رہے کہ ان کو این آر او مل جائے۔

مزید خبریں