اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے2020 کے دوران کورونا کی صورتحال کےباوجود مشترکہ اجلاسوں سمیت 123 دن کام کیا اور اس دوران 58 سرکاری بل اور 14 آرڈیننس پیش کیے گئے جبکہ31 سرکاری بل منظور ہوئے ۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابقیکم جنوری 2020 سے 31 دسمبر 2020 ء تک قومی اسمبلی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ صرف موثر قانون …
قومی اسمبلی نے2020 کے دوران کورونا کی صورتحال کےباوجود مشترکہ اجلاسوں سمیت 123 دن کام کیا ، 58 سرکاری بل اور 14 آرڈیننس پیش کیے گئے جبکہ31 سرکاری بل منظور ہوئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے2020 کے دوران کورونا کی صورتحال کےباوجود مشترکہ اجلاسوں سمیت 123 دن کام کیا اور اس دوران 58 سرکاری بل اور 14 آرڈیننس پیش کیے گئے جبکہ31 سرکاری بل منظور ہوئے ۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابقیکم جنوری 2020 سے 31 دسمبر 2020 ء تک قومی اسمبلی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ صرف موثر قانون سازی اور پارلیمنٹ کی نگرانی ہی ملک کو درپیش تمام معاشی و سماجی مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں COVID-19 کے وبائی مرض کی وجہ سے سامنے آنے والے سنگین چیلنجوں کے باوجود 2020 میں قومی اسمبلی کی کارکردگی قابل ذکر رہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور عوامی نمائندے ہونے کی حیثیت سے اراکین پارلیمنٹ موثر قانون سازی کے زریعے عوام کو درپیش مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ اسپیکر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں عوامی کی فلاح و بہبود کے لئے مل کر کام کریں۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سال 2020 میں کووڈ-19 وبائی مرض نے دنیا بھر میں معاملات زندگی کو بری طرح متاثر کیا جس میں پاکستان بھی شامل ھے۔ COVID-19 کی وجہ سے درپیش چیلنجوں کے باوجود ، قومی اسمبلی ثابت قدمی سے قوم کے شانہ بنشانہ کھڑی رہی اور ملک میں معاشرتی اور معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپنے آپ کو فعال کردار ادا کرتی رہی۔ ایوان نے قومی اہمیت کے امور اور تحاریک التوی کے ذریعے بحث اور ممبران کی طرف سے پوچھے گئے سوالات اور قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے سماجی و اقتصادی امور پر توجہ مزکور رکھی۔سال 2020 کے دوران ، ایوان کی قانون سازی کے شعبہ میں ایوان کی کارکردگی قابل ذکر رہی۔ قیصر نے کی۔ مذکورہ مدت کے دوران قومی اسمبلی نے 34 سرکاری اور 2 نجی ممبروں کے قانون بھی ایکٹ بنے۔ کیے۔ مزید براں، 79 نجی ممبران بل ایوان میں پیش کیے گئے جن میں سے 06 نجی ممبروں کے بل منظور کیے گئے جو قانون سازی کے عمل میں ممبران اسمبلی کی فعال شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سال کے دوران ، مختلف قومی اور بین الاقوامی امور پر 19 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں سے سب سے زیادہ اھمیت کی حامل اسلامو فوبیا کے تدارک ، اسمبلی کے قیام کی 73 ویں سالگرہ اور ختم نبوت کے حوالے سے قرار دیں تھیں۔ سال کے دوران ، 6130 سوالات موصول ہوئے جن میں سے 891 سوالات کے جوابات قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران دیئے گئے۔ قومی اسمبلی کے ضابطہ کار 259 کے تحت موٹروے پر ریپ کے افسوسناک واقعہ ، COVID-19 ، زرعی پالیسی، نجکاری اور مسئلہ کشمیر جیسے اہم معاملات پر قومی اسمبلی کے اجلاس کے تحت پیش کردہ تحریکیوں پر 6 گھنٹے اور 23 منٹ بحث کی گی جبکہ COVID-19 وبائی مرض، کراچی میں پی آئی اے کی پرواز کے حادثہ اور ایئر پورٹ اور اسٹیل ملز کے نجکاری کے امور اور چینی کی قلت کے موضوعات بھی زیربحث آئے۔سال 2020 کے دوران، قاعدہ 259 کے تحت کل 460 تحریکوں سیکرٹیریٹ کو موصول ہوئی جن میں سے 40 کو مسترد کیا گیا، 54 کو ایوان کے سامنے لایا گیا، جس میں سے 6 تحریکوں پر بحث ہوسکی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں قاعدہ 244 (بی) کے تحت 6 تحاریک موصول ہوئے جن میں سے دو قواعد کے خلاف قرار دی گئی جبکہ تین کو قائمہ کمیٹیوں کے حوالے کردیا گیا۔ قومی اسمبلی کو سال کے دوران استحقاق کے 74 سوالات بھی موصول ہوئے جن میں سے 2 خلاف قواعد قرار دئے گیے جبکہ 13 کو ضابطہ کار اور استحقاق سے متعلق قائمہ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ، جبکہ 49 منظوری کے عمل کے مراحل میں ہیں۔
پارلیمنٹری مباحثہ قوم کو درپیش سماجی و معاشی امور کو اجاگر کرنے کے لئے ایک لازمی ذریعہ ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ممبران نے 57 گھنٹے اور 08 منٹ عام بحث کی جو بجٹ پر عام بحث کے لئے مختص 40 گھنٹے سے 17 گھنٹے 08 منٹ زیادہ تھے۔ تاہم پورے بجٹ کی منظوری میں 81 گھنٹے 33 منٹ خرچ ہوئے جس میں چارج شدہ اخراجات کی منظوری اور کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور آخر میں فنانس بل 2020-21 کی منظوری پر صرف ہوا۔ ضمنی گرانٹس کی منظوری میں کل 24 گھنٹے 25 منٹ لگے۔ ممبران اسمبلی نے بجٹ پر بحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جبکہ 208 کی مجموعی تعداد بشمول ٹریژری سے 107 اور اپوزیشن بنچوں کے 101 ممبران نے بجٹ پر اظہار خیال کیا۔ قومی اسمبلی میں نگرانی اور اہم عوامی معاملات کو زیربحث لانے کے لئے ضابطہ 259 کے تحت توجہ دلاؤ نوٹسز اور تحریک اھم پارلیمنٹری ذریعہ ہیں۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کو 342 توجہ دلاو نوٹس موصول ہوئے ، ان میں سے 79 کو ایوان میں پیش کیا گیا ، تاہم 60 توجہ دلاؤ نوٹسوں پر بحث ہوئی جبکہ مفصل بحث کے بعد 15 توجہ دلاؤ نوٹسز کو متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کردیا گیا۔ دریں اثنا ، ایوان میں 79 التوئ کی تحاریک پیش کی گئیں جن میں سے 44 کو قواعد کے تحت مسترد کردیا گیا جبکہ ایک کو ایوان میں بحث کے لیے لایا گیا۔COVID-19 کی گمبھیر صورتحال کو زیر عور رہتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے اس عالمی وبائی مرض سے نمٹنے کے لئے مشترکہ لاحہ عمل اپنانے کے لئے قومی اسمبلی میں پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کی۔ پارلیمانی قیادت میں اتفاق رائے کے نتیجے میں کورونا وائرس سے متعلق ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ دراثناء تین سابق اسپیکروں اور دیگر پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئ جس کو کرونا وائرس وبائی مرص کے پیش نظر قومی اسمبلی کے ورچوئل سیشن کے انعقاد کے لئے اقدامات اور تجاویز دینے کے لیے ھدایات کی گئیں۔ پارلیمانی کمیٹی برائے کوویڈ ۔19 نے اہم پالیسی اقدامات تجویز کیے جن میں احساس پروگرام کے ذریعے COVID-19 سے متاثرہ لوگوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی حفاظتی ٹیکوں سے متعلق توسیعی پروگرام کا تسلسل ، وینٹیلیٹرز اور COVID-19 ٹیسٹنگ کٹس کی وافر فراہمی کے علاوہ میڈیکل کمیونٹی کو مالی فوائد کی منظوری کی تجویز بھی دی جو اس مرص کے خالف فرنٹ لائن پر اپنی خدمات سرانجام دے رھے ہیں۔ اسپیکر اسد قیصر نے معاشرے کے پسماندہ طبقات خصوصا خصوصی افراد کی فلاح و بہبود پر بھی توجہ دی۔ پالیسی اور قانون سازی کی سطح پر توجہ دنیے کے لیے پارلیمان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خصوصی افراد سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ملک کی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے کی وجہ سے اسپیکر اسد قیصر کی خصوصی توجہ کا محور رھی۔ زرعی مصنوعات سے متعلق خصوصی کمیٹی نے کسان برادری کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سارے اقدامات تجوزیز کیے۔ یہ کمیٹی اب بھی زراعت کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی مداخلت کے لیے تجاویز اور کسان برادری کے مسائل حل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے مابین دوطرفہ تجارت بڑھانے پر توجہ دی۔ انہوں نے پاکستان افعان پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی جس کے آٹھ اجلاس منعقد ھوے اور دوطرفہ تعلقات کو تعاون کی نئی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے۔”پاک افغان تجارت اور سرمایہ کاری فورم 2020″ کے سیمینار کا انعقاد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کیا جو دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لئے ایک کامیاب زریعہ ثابت ہوا۔








