کراچی۔14جون (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے زر مبادلہ ضوابط کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ایجنڈے کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان سے مصنوعات کی برآمد کے لیے ضوابطی ہدایات میں تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔ مرکزی بینک سے پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد موجودہ ہدایات کو سادہ بنا کر کاروبار کرنے کی آسانی کو فروغ دینا ہے۔ اہم ترین مجوزہ ترامیم میں بزنس …
اسٹیٹ بینک نے بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کو مصنوعات بیچنے میں سہولت دینے کے لیے فریم ورک تجویز کردیا

مزید خبریں
کراچی۔14جون (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے زر مبادلہ ضوابط کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ایجنڈے کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان سے مصنوعات کی برآمد کے لیے ضوابطی ہدایات میں تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔ مرکزی بینک سے پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد موجودہ ہدایات کو سادہ بنا کر کاروبار کرنے کی آسانی کو فروغ دینا ہے۔
اہم ترین مجوزہ ترامیم میں بزنس ٹو بزنس ٹو کنزیومر (B2B2C) ای کامرس ماڈل کے تحت پاکستانی برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹس بشمول امیزون، ای بے، علی بابا کے ذریعے فروخت کرنے میں سہولت دینے کا فریم ورک شامل ہے۔ پاکستان سنگل ونڈو پراجیکٹ پر عملدرآمد کے لیے برآمدی ضوابط میں درکار ترامیم، جن سے الیکٹرانک فارم ای کی شرط ختم ہوجائے گی، بھی نظر ثانی شدہ مسودے کا حصہ ہیں۔ اسی طرح بعض دوسرے شعبوں میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک سے درکار ضوابطی منظوری کی شرط کو بینکوں کو سونپ دیا جائے تاکہ کاروباری طبقے کو سہولت ملے۔
مجوزہ ترامیم اسٹیٹ بینک کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہیں جس کا مقصد موجودہ زرمبادلہ ضوابط پر نظرثانی کرنا ہے تاکہ یہ منڈی کی تغیر پذیر حرکیات، کاروباری ضروریات اور عالمی تجارت کی روایات سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ اس عمل کے دوران بینکاری صنعت اور کاروباری برادری کی مشاورت کے بعد زرمبادلہ مینوئل کے 11 ابواب (22ابواب میں سے) پر پہلے ہی نظرثانی کی جاچکی ہے۔ زرمبادلہ سے متعلق ہدایات میں حالیہ ترامیم برآمدات سے متعلق ہیںجو زرمبادلہ مینوئل کے باب 12 میں دی گئی ہیں۔ یہ دستاویز اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ کے درج ذیل لنک پر دستیاب ہے، متعلقہ فریق اس پر اپنی آرا دے سکتے ہیں۔ https://www.sbp.org.pk/epd/Draft-Chapter-12-Exports.pdf اسٹیٹ بینک ایف مینوئل ( باب 12 برآمدات)کے نظر ثانی شدہ مسودے میں کسی مناسب اضافے یا بہتری کے لیے کاروباری طبقے، بینکاری شعبے وار دیگر متعلقہ فریقوں کی آرا اور تجاویز کی حوصلہ افزائی اور خیرمقدم کرتا ہے۔








