افغانستان میں جاری انسانی بحران شدید سردی کے باعث مزید شدت اختیار کر رہا ہے، اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ۔5جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں پہلے ہی شدید مشکلات کا شکارلاکھوں افراد سخت سردی کی وجہ سے بدترین حالات سے دوچار ہیں جس کے باعث جاری انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے تعاون انسانی امور کے دفتر (او سی ایچ اے)کے مطابق افغانستان میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران شدید برفباری اور بارش سے متعدد مقامات متاثر ہوئے …

اقوام متحدہ۔5جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں پہلے ہی شدید مشکلات کا شکارلاکھوں افراد سخت سردی کی وجہ سے بدترین حالات سے دوچار ہیں جس کے باعث جاری انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے تعاون انسانی امور کے دفتر (او سی ایچ اے)کے مطابق افغانستان میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران شدید برفباری اور بارش سے متعدد مقامات متاثر ہوئے ہیں جبکہ کابل سے جانے اور آنے والی پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے نیویارک میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں مزید برفباری اور درجہ حرارت کم رہنے کی پیشنگوئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شراکت داروں نے افغانستان بھر میں 70لاکھ افراد کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کیں جبکہ ملک کے کئی حصوں میں نقد رقوم کی ادائیگی سمیت سردی سے بچنےکے لیے بھی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو ین ایچ سی آر) نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ادارہ افغان شہریوں کو سردی سے بچانے اور سلامتی کے سلسلہ میں ان کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کثیر مقصدی نقد امداد فراہم کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہ مدد ضروری ہے۔

افغانستان میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے نیشنل ایمرجنسی کوآرڈینیٹر عزت اللہ نوری نے واضح کیا کہ یہ 5سالوں میں خشک سالی کا تیسرا سیزن ہے۔اگر ہم نے زراعت کے شعبے کی بروقت معاونت نہ کی تو ہم افغان معیشت کے مرکزی ستون کو کھو دیں گے۔