اقوام متحدہ۔5جنوری (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت ، ڈبلیو ایچ او نے اومیکرون کیسز میں اضافے کے باعث تمام ممالک پر 70 فیصد ویکسین کوریج پر زور دیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے صحت بارے ادارہ نے کہا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ تمام ممالک کو جلد از جلدکورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مدد فراہم کی جائے۔ اومی کرون ویرینٹ کے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے کیسز …
ڈبلیو ایچ او کا ومیکرون کیسز میں اضافے کے باعث تمام ممالک پر 70 فیصد ویکسین مکمل کرنے پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔5جنوری (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت ، ڈبلیو ایچ او نے اومیکرون کیسز میں اضافے کے باعث تمام ممالک پر 70 فیصد ویکسین کوریج پر زور دیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے صحت بارے ادارہ نے کہا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ تمام ممالک کو جلد از جلدکورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مدد فراہم کی جائے۔
اومی کرون ویرینٹ کے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کے ایک سینئر ماہر وبائی امراض ڈاکٹر ماریا وان کر خوف نے کہاکہ پوری دنیا اس دبا کی شدت کو برداشت نہیں کرسکتی لہذا ہمیں لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لئے جلد بہترین اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت پوری دنیا کسی بھی قسم کے وائرس کے ساتھ نمٹنے کی حالت میں نہیں ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ128 ممالک نے اطلاع دی کہ انہوں نے اومیکرون کی شناخت کر لی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر عبدی محمود نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی تک یہ بتانے کے لیے کافی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں کہ آیا اومیکرون کی شدت مختلف قسم کےکورونا وائرس سے کم ہے۔
انہوں نے کہاکہ لندن اومی کرون کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح 2020 کے مقابلے میں اب تقریباً 20 فیصد کم تھی، جو کہ ویکسین دستیاب ہونے سے پہلے تھی۔ انہوں نے جاری پیغام میں کہا کہاگر آپ کو ویکسین لگائی گئی ہے، تو آپ محفوظ ہیں، لیکن اگر ویکسین نہیں لگائی گئی یہ اومیکرون آپ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہےلہذا ویکسینیشن بہت اہم ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے وبائی امراض کے ماہر نے کہاکہ مطالعے کی بڑھتی ہوئی تعداد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اومیکرون کی قسم زیادہ تر سانس کی اوپری نالی کو متاثر کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اومی کرون کے باعث دیگر تناؤ پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں جو شدید نمونیا کا سبب بن سکتے ہیں لیکن اومی کرون کی تشخیص کو ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہو ں نے کہاکہ اس وقت چیلنج ویکسین نہیں بلکہ سب سے زیادہ کمزور آبادیوں کی ویکسینیشن ہونا سب سے بڑا چیلنج ہے جسے مکمل کرنا نہت ضروری ہے۔








