سٹیٹ بینک نے نظام ادائیگی کے متعلق مالی سال 22۔2021 کی پہلی سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی

اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے نظام ادائیگی کے متعلق مالی سال2021-22ء کی پہلی سہ ماہی رپورٹ پیر کو جاری کر دی جس میں جولائی تا ستمبر2021ء کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ادائیگیوں کے ایکوسسٹم نے خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی تیزرفتار نمو جاری رکھی ۔ای بینکاری، جس سے مراد برقی ذرائع سے کئے جانے والے لین دین ہیں …

اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے نظام ادائیگی کے متعلق مالی سال2021-22ء کی پہلی سہ ماہی رپورٹ پیر کو جاری کر دی جس میں جولائی تا ستمبر2021ء کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ادائیگیوں کے ایکوسسٹم نے خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی تیزرفتار نمو جاری رکھی ۔ای بینکاری، جس سے مراد برقی ذرائع سے کئے جانے والے لین دین ہیں (بشمول ریئل ٹائم آن لائن برانچ، اے ٹی ایم، موبائل بینکاری، انٹرنیٹ بینکاری، کال سینٹر بینکاری، پی او ایس اور ای کامرس) ، زیرِ جائزہ سہ ماہی کے دوران حجم اور مالیت دونوں لحاظ سے بڑھتی رہی کیونکہ اس میں مالی سال22ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران مالی سال21ء کی اسی مدت کے مقابلے میں12فیصد اور16فیصد کی بالترتیب نمو ہوئی۔

دو اہم شعبے جن میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اختیار کرنے کی سطح بلند رہی وہ موبائل اور انٹرنیٹ بینکاری ہیں۔ موبائل بینکاری صارفین کی تعداد9 سہ ماہی بہ سہ ماہی بنیاد پر 4فیصد نمو کے ساتھ بڑھ کر مجموعی طور پر11.3ملین تک پہنچ گئی۔ موبائل بینکاری کے ذرائع سے کی گئی ٹرانزیکشنز کی تعداد79.1ملین رہی جبکہ ان کی مالیت تقریباً2.2ٹریلین روپے تھی، جو سہ ماہی بہ سہ ماہی بنیاد پر حجم کے لحاظ سے29فیصد اور مالیت کے لحاظ سے36فیصد نمو کو ظاہر کرتا ہے۔

انٹرنیٹ بینکاری نے بھی ای بینکاری خدمات کا استعمال بڑھانے میں کردار ادا کیا اور انٹرنیٹ بینکاری کے استعمال کنندگان میں سہ ماہی بہ سہ ماہی 31فیصد نمو درج کی گئی، جن کے ذریعے1.9ٹریلین روپے مالیت کی30ملین ٹرانزیکشنز کی گئیں۔ یہ اس لین دین میں سہ ماہی بہ سہ ماہی بنیاد پر حجم کے لحاظ سے6فیصد اور مالیت کے لحاظ سے10فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ریٹیل کے شعبے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اختیار کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ بحیثیت مجموعی ای کامرس لین دین میں حجم کے لحاظ سے87فیصد اور مالیت کے لحاظ سے21فیصد کی سہ ماہی بہ سہ ماہی متاثر کن نمو ہوئی، اگرچہ ای کامرس کے تاجروں کی تعداد گذشتہ سہ ماہی جتنی ہی تھی۔ سہ ماہی کے دوران ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع استعمال کرتے ہوئے ای کامرس سے متعلق22.3ارب روپے مالیت کی12.7ملین ٹرانزیکشنز ہوئیں۔

اسی طرح، ملک میں مرچنٹ پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں کی تعداد سہ ماہی بہ سہ ماہی 10 فیصد اضافے سے بڑھ کر79,134 مشینوں تک پہنچ گئی۔ ان مشینوں سے مرچنٹ کے مقامات پر تقریباً134.9ارب روپے مالیت کی کارڈ پر مبنی28.1ملین ٹرانزیکشنز کی گئیں جو اس میں حجم کے لحاظ سے سہ ماہی بہ سہ ماہی 16.1فیصد اور مالیت کے لحاظ سے10.6فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ستمبر 2021ء کے اختتام تک مجموعی طور پر 46.2 ملین کارڈ زیرِ استعمال تھے جن میں سے اکثر ڈیبٹ کارڈ (64 فیصد) تھے جبکہ سماجی بہبود کے کارڈ (22 فیصد)، صرف اے ٹی ایم کارڈ (10 فیصد)، کریڈٹ کارڈ (4 فیصد)، اور پری پیڈ کارڈ (0.3 فیصد) پر مشتمل تھے۔

اس سہ ماہی میں بذریعہ کاغذی لین دین کے حجم میں سہ ماہی بہ سہ ماہی 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور اس ذریعے سے لین دین کی مالیت میں بھی 3 فیصد اضافہ ہوا جو اس بات کا اظہار ہو سکتا ہے کہ وبا سے متعلق پابندیوں کے خاتمے کے بعد لوگ روایتی طریقوں (یعنی برانچوں) کی طرف لوٹ رہے ہیں۔بڑی مالیت کی (تھوک فروش) ادائیگیوں کے زمرے میں اس سہ ماہی کے دوران اسٹیٹ بینک کے بروقت بین البینک تصفیے کے نظام (پرزم) کے ذریعے پروسیس ہونے والے لین دین کی مجموعی تعداد 1.1 ملین تھی اور اس کی مالیت 159.1 ٹریلین روپے رہی جو گذشتہ سہ ماہی کی نسبت 7 فیصد زائد ہے۔