ماسکو ۔7مارچ (اے پی پی):روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہےکہ ڈونیٹسک اور لوگانسک جمہوریائوں میں 2014 سے اب تک 14,000 شہری مارے جا چکے ہیں۔روس کے سرکاری خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ میں جو کہنے جا رہا ہوں وہ تلخ لگ سکتا ہے، پھر بھی حالات مجھے سختی سے کہنے پر مجبور کرتے ہیں، ڈون باس لوگ آوارہ کتے نہیں ہیں! پھر …
چودہ ہزار ڈون باس لوگ مارے جا چکے ،مغرب نے اس پر توجہ نہ دینے کو ترجیح دی،روسی صدر ولادیمیر پیوٹن

مزید خبریں
ماسکو ۔7مارچ (اے پی پی):روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہےکہ ڈونیٹسک اور لوگانسک جمہوریائوں میں 2014 سے اب تک 14,000 شہری مارے جا چکے ہیں۔روس کے سرکاری خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ میں جو کہنے جا رہا ہوں وہ تلخ لگ سکتا ہے، پھر بھی حالات مجھے سختی سے کہنے پر مجبور کرتے ہیں،
ڈون باس لوگ آوارہ کتے نہیں ہیں! پھر بھی، ان میں سے 13,000-14,000 مارے جا چکے ہیں ان میں 500 سے زیادہ بچے مارے گئے یا معذور ہو چکے ہیں لیکن نام نہاد مہذب مغرب نے آٹھ سالوں سے اس پر توجہ نہ دینے کو ترجیح دی اور یہی چیز خاص طور پر ناقابل برداشت ہے ۔
مزید برآں، کیف کے حکام نے حال ہی میں صاف صاف کہنا شروع کر دیا کہ وہ منسک ٹو سمیت دوسرے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کریں گے،وہ ہر جگہ ایسا کہتے رہے ہیں اور اس دوران روس پر معاہدوں پر عمل درآمد میں ناکامی کے الزامات لگائے جاتے رہے۔روسی صدر نے تازہ ترین واقعات کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ سفید سیاہ ہے اور سیاہ سفید ہے۔








