انطالیہ ۔11مارچ (اے پی پی):روس اپنے معاشی مسائل کے حل کے لیے دوبارہ کبھی مغربی حکومتوں اور کمپنیوں پر انحصار نہیں کرے گا۔روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق اس بات کا اظہار وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے انطالیہ میں اپنے یوکرائنی اور ترک ہم منصبوں دمتری کولیبا اور میولوت کاووش اوغلو کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلے کو اس طرح …
دوبارہ کبھی مغربی حکومتوں اور کمپنیوں پر انحصار نہیں کریں گے،ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آ ئندہ کوئی ‘انکل سام ‘ یا کوئی اور ،ایسے فیصلے نہ کرے جس کا مقصد ہماری معیشت کو تباہ کرنا ہو،لاوروف

مزید خبریں
انطالیہ ۔11مارچ (اے پی پی):روس اپنے معاشی مسائل کے حل کے لیے دوبارہ کبھی مغربی حکومتوں اور کمپنیوں پر انحصار نہیں کرے گا۔روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق اس بات کا اظہار وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے انطالیہ میں اپنے یوکرائنی اور ترک ہم منصبوں دمتری کولیبا اور میولوت کاووش اوغلو کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا ہے،
انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلے کو اس طرح حل کریں گے کہ پھر کبھی بھی اپنے مغربی شراکت داروں پر ہمارا انحصار نہ ہو، چاہے وہ حکومتیں ہوں یا کمپنیاں جو اپنے کاروبار کے مفادات کے مطابق نہیں ہیں، بلکہ سیاسی جارحیت کا آلہ کار بن چکی ہیں، اب ہم مغرب سے تجربہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم خود کو دوبارہ کبھی بھی ایسی ہی صورتحال میں نہ پائیں کہ کوئی ‘انکل سام ‘ یا کوئی اور ،ایسے فیصلے کرے جس کا مقصد ہماری معیشت کو تباہ کرنا ہو۔لاوروف نے مزید کہا کہ ہم اس پر مزید انحصار نہ کرنے کا راستہ تلاش کریں گے، اور یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے جہاں تک تیل اور گیس کا تعلق ہے ہم یہ سب کچھ اپنے مغربی ساتھیوں کی صوابدید اور ضمیر پر چھوڑتے ہیں،ہم نے تیل اور گیس کو کبھی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا، اس حوالے سےانہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح دس سال سے زائد عرصہ قبل یوکرین نے قدرتی گیس چوری کرنے کی عادت ڈال کر بحران کو ہوا دی تھی، جو اس کی سرزمین سے روس سے یورپ تک ٹرانزٹ کے ذریعے فراہم کی جاتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مقدار اور قیمتوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرتے ہوئے باقاعدگی سے ٹرانزٹ گیس یورپ بھیجی، لیکن انہوں نے اسے ختم کر دیا۔اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ یوکرین کے حوالے سے جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی پیمائش ایک واحد معیار سے کی جاتی ہے کہ اس ملک کے ذریعے روس کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے، اور روس کو کس طرح روکا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب نےروس کو ہر نام سے پکارا، پابندیاں لگائیں، ان کی کمپنیوں پر ملک میں رہنے پر پابندی لگائی، سب بھاگ گئے، لیکن ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ وہ تیل اور گیس خریدیں گے، کیونکہ دوسری صورت میں وہ سردی سے جم جائیں گے، اس طرح ان کے رویے نے یورپ کی نام نہاد اقدار کو بالکل ظاہر کیا۔
وزیر نے روسی توانائی کے وسائل کی خریداری پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ تیل اور گیس خریدنا بند کر دیتے ہیں، تو ہم انہیں اپنا تیل اور گیس خریدنے پر آمادہ نہیں کریں گے،ہمارے پاس فروخت کے لیے دوسری مارکیٹیں پہلے سے ہی موجود ہیں۔








