افغان خواتین کو مضبوط اور باختیار بنانے ، ملک کی ترقی ،امن سازی، امددای سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلٹ

اقوام متحدہ ۔11مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلٹ نے افغان خواتین کو مضبوط اور باختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہےکہ اگر افغانستان امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے تو افغان خواتین کو امن سازی، امدادی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کابل میں طالبان حکام سے بات چیت کے دوران کہا کہ افغان خواتین …

اقوام متحدہ ۔11مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلٹ نے افغان خواتین کو مضبوط اور باختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہےکہ اگر افغانستان امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے تو افغان خواتین کو امن سازی، امدادی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں شامل کیا جانا چاہیے ۔

انہوں نے کابل میں طالبان حکام سے بات چیت کے دوران کہا کہ افغان خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور انتہائی غربت کے عالم میں افغان خواتین اپنے خاندانوں اور عزیزواقارب کی حفاظت اور ان کی خدمت کے لیے انتھک محنت کر رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے زور دیا کہ لڑکیوں کو سکولوں اور ینیورسٹیوں میں جانے کی اجازت ہونی چاہیے اور انہیں ملک کے بہتر مستقبل میں تعاون کے لیے باختیار بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو پولیس فورس، عدالتوں، حکومت اور نجی شعبے سمیت شہری اور عوامی زندگی کے ہر شعبے میں خاطر خوانمائندگی دی جانی چاہیے ۔

افغان خواتین کو پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے، معاشرے کے مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرنے ،امن سازی، ترقی اورامدادی سرگرمیوں میں بامعنی شمولیت دینے ، ان کے مطالبات کے مطابق حل تیار کرنے کا مساوی حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے عالمی دن پر وہ دنیا کی تمام خواتین کے ساتھ ہیں اور وہ ہر روز اور ہر لمحہ افغان خواتین، اور لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔

مزید خبریں