کراچی۔30جنوری (اے پی پی):اسٹیٹ بینک پوڈ کاسٹ کی قسط 18 جاری کر دی گئی ہے۔ مرکزی بینک سے پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق بینک دولت پاکستان نے حال ہی میں اپنے زری پالیسی فیصلے کے اعلان میں پالیسی ریٹ میں 100بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 17فیصد کیا، زری پالیسی فیصلے کے کاروباری اداروں اور صارفین پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، لہذا یہ تمام فریقوں کے لیے بہت اہمیت …
اسٹیٹ بینک پوڈ کاسٹ کی قسط 18 جاری

مزید خبریں
کراچی۔30جنوری (اے پی پی):اسٹیٹ بینک پوڈ کاسٹ کی قسط 18 جاری کر دی گئی ہے۔ مرکزی بینک سے پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق بینک دولت پاکستان نے حال ہی میں اپنے زری پالیسی فیصلے کے اعلان میں پالیسی ریٹ میں 100بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 17فیصد کیا، زری پالیسی فیصلے کے کاروباری اداروں اور صارفین پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، لہذا یہ تمام فریقوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
اسٹیٹ بینک پوڈ کاسٹ کی اس قسط میں شعبہ زری پالیسی اسٹیٹ بینک کے ڈائریکٹر فدا حسین ہمیں تازہ ترین زری پالیسی فیصلے کی اہم وجوہات کے بارے میں بتاتے ہیں۔زری پالیسی کمیٹی نے اپنے بیان میں تین اہم عوامل کا ذکر کیا ہے۔ پہلا عامل مہنگائی کی بلند سطح ہے ، جو اکتوبر کے 26.6فیصد سے معمولی کمی کے ساتھ نومبر میں 23.8فیصد پر آگئی، اور دسمبر 2022 میں 24.5فیصد پر تھی۔
گذشتہ دس مہینوں سے نہ صرف عمومی مہنگائی بلکہ قوزی مہنگائی میں بھی اضافے کا رجحان رہا ہے جس سے طلب کے دباو کے ساتھ ساتھ توانائی اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں پہلے کیے گئے اضافوں کے دور ثانی اثرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مزید برآںکاروباری اداروں اور صارفین دونوں کی مہنگائی میں اضافے کی توقعات بڑھی ہیں۔ ایم پی سی نے کہا کہ اگر مرکزی بینک حالیہ صورت حال میں اقدام نہیں کرتا تو یہ توقعات آگے چل کر مہنگائی کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتی تھیں۔
زری پالیسی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دوسرا اہم عامل جاری کھاتے میں خاصی کمی کے باوجود پاکستان کے بیرونی کھاتے اور اس کے امکانات کو درپیش قلیل مدتی چیلنجوں میں اضافہ ہے۔ مقررہ ادائیگیوں کے باعث اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی اور ملکی دونوں سطح پر بے یقینی کے باعث متوقع رقوم کی آمد تخمینے کے مطابق نہیں ہوئی۔تیسرا اہم عامل غیر یقینی عالمی اقتصادی حالات ہیں۔
اِس وقت عالمی معیشت بھی سست روی کا شکار ہے اور ایسی علامات ظاہر ہو رہی ہیں کہ بعض بڑے ترقی یافتہ ملکوں میں کساد بازاری آ سکتی ہے۔ بین الاقوامی ماحول برآمدات اور ترسیلات کے لیے سازگار معلوم نہیں ہوتا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اشیا کی پست قیمتوں اور عالمی مالی صورتِ حال میں نرمی کے وقفوں کا بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافہ سست رفتاری سے ہو تو ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ملکوں کی طرف سرمائے کے بہا کی بحالی میں مدد دے سکتا ہے اور ان کے لیے سرمائے کی بین الاقوامی مارکیٹوں سے فائدہ اٹھانا آسان ہو سکتا ہے۔
مستقبل میں ہمیں اشیا کے معمولی سے گرتے ہوئے نرخوں سے فائدہ اٹھانے کی توقع ہے اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس کا ہماری درآمدات اور کرنٹ اکائونٹ کی رقم پر مثبت اثر ہوگا۔غذائی مہنگائی کے حوالے سے پوڈ کاسٹ میں یہ بات اجاگر کی گئی ہے کہ سردی کے مہینوں نومبر اور دسمبر کے دوران غذائی اشیا کی شیلف لائف بڑھ جاتی ہے جس سے رسد بہتر ہونے سے نرخ کم ہو جاتے ہیں تاہم 2022 میں ایسا نہ ہوسکا کیونکہ غذائی اشیا کے نرخوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ مقامی سطح پر قیمتوں کی فعال طریقے سے نگرانی اور انتظامی اقدامات رواں اور مسلسل رسد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں ۔
بلند غذائی مہنگائی اور قوزی مہنگائی کو اگر پختہ ہونے دیا جائے تو wage price spiral پیدا ہونے کا خطرہ ہو جاتا ہے جس کے لیے سخت زری پالیسی اقدام ضروری ہو جاتا ہے۔سودی شرحیں بڑھنے کے معاشی سرگرمیوں پر اثرات سے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک کا بنیادی مقصد قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
بلند مہنگائی نے صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے بچت کے منصوبوں اور سرمایہ کاری کے فیصلوں کو بہت مشکل بنادیا ہے، جس سے نمو کے امکانات پر اثر پڑے گا۔ اس تناظر میں اسٹیٹ بینک معاشی سرگرمیوں کے لیے زری پالیسی کی سختی کے قلیل مدتی اثرات سے واقف ہے لیکن اس کا ماننا ہے کہ وسط تا طویل مدت میں پائیدار نمو یقینی بنانے کے لیے ابھی مہنگائی پر قابو پانا لازمی ہے۔
پوڈ کاسٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ جب مہنگائی زیادہ ہو تو طلبی دبائو کم کرنے کے لیے مالیاتی پالیسی اور زری پالیسی کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ توسیعی مالیاتی پالیسی زری سختی کے اثرات کم کردیتی ہے۔
اس لیے موجودہ حالات میں مجوزہ مالیاتی یکجائی پر عملدرآمد اسٹیٹ بینک کی مہنگائی میں کمی کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔زری پالیسی کمیٹی نے مالیاتی اور شرح مبادلہ میں ردوبدل کے سبب ممکنہ مہنگائی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا۔
زری پالیسی کمیٹی نے مختلف منظرناموں کا جائزہ لیا جو ممکنہ ردوبدل کے تناظر میں وضع کیے گئے تھے اور جن کے بارے میں اجلاس کے موقع پر معلومات دستیاب تھیں۔








