اسلام آباد ۔ 5 جنوری (اے پی پی) وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئینی اداروں کو بُلی کرنا اور دھمکانا عمران خان کی عادت بن چکی ہے، آئنیی اداروں کا احترام کرنا ہم سب کا فرض ہے، نواز شریف ن لیگ کے نہیں پوری قوم اور پاکستان کے وزیر اعظم ہیں، ان پر لگے الزامات کا جواب دینا فرض ہے، عمران خان پہلے یوٹرن …
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی مسلم لیگ کے رہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 جنوری (اے پی پی) وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئینی اداروں کو بُلی کرنا اور دھمکانا عمران خان کی عادت بن چکی ہے، آئنیی اداروں کا احترام کرنا ہم سب کا فرض ہے، نواز شریف ن لیگ کے نہیں پوری قوم اور پاکستان کے وزیر اعظم ہیں، ان پر لگے الزامات کا جواب دینا فرض ہے، عمران خان پہلے یوٹرن اور اب الزام خان مشہور ہیں، عمران خان نے خود کہا کہ میرا کام الزام لگانا ہے، وزیر اعظم نواز شریف کا پانامہ کیس سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان کی ترقی کے سفر کو ہم نے آگے لے کر جانا ہے اور اس سفر کو جاری رکھنے کےلئے نئے منصوبوں کے فیتے کٹتے رہےں گے، 2018 میں پاکستان میں لوڈ شیڈنگ ختم ہوگی اور دہشتگردی پر قابو پا لیا جائے گا، عمران خان کے جھوٹے الزامات کے جواب میں میڈیا کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں۔ جمعرات کو یہاں وزیر مملکت برائے نجکاری محمد زبیر اور رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنا پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی عادت ہے جو اس حلف نامے کی خلاف ورزی ہے جس کا حلف اس نے بحیثیت رکن قومی اسمبلی اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) قومی اداروں کا بہت احترام کرتی ہے تاہم عمران خان کی طرف سے روزانہ ایسے الزامات لگائے جانے کے باعث اصل حقائق کی وظاحت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ عمران خان نے تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کیخلاف بے بنیاد الزامات لگائے، عمران خان نے عدالت میں خود تسلیم کیا کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ عمران خان کے بے بنیاد الزامات کے جواب میں قوم کے سامنے حقائق لانا ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مفروضوں پر بات کرتی ہے اور کنٹینر کے خطاب یا پریس کانفرنسوں کے ذریعے کیسز نہیں جیتے جا سکتے۔








