اسلام آباد ۔ 6جنوری (اے پی پی) ینگ پارلیمانی فورم نے اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق، اسلامی ممالک کی تنظیم اور برطانیہ وآسٹریلیا کی منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں، جمعہ کو کشمیر پر دو روزہ عالمی سیمینار کے اختتام پر منظور کی گئی قرارداد میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ …
ینگ پارلیمانی فورم کے کشمیر پر عالمی سیمینار کے اختتام پر منظور کی گئی قرارداد
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6جنوری (اے پی پی) ینگ پارلیمانی فورم نے اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق، اسلامی ممالک کی تنظیم اور برطانیہ وآسٹریلیا کی منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں، جمعہ کو کشمیر پر دو روزہ عالمی سیمینار کے اختتام پر منظور کی گئی قرارداد میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیاں اور کشمیریوں کا قتل عام بند کرے۔ بھارت انسانی حقوق کی صورتحال کی آزادانہ تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کو اجازت دے اور عالمی ہیومینٹیرین لاءاور عالمی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ایسے جرائم میں ملوث شر پسندوں کو قرارواقعی سزا دے اور ذمہ داروں کو تعین کرے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 8 جولائی 2016 ءکو نوجوان فریڈم فائٹر برہان وانی کا ماورائے عدالت قتل وادی میں انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزی ہے، قرارداد میں بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوانوں کو پیلٹ گن کے استعمال سے آنکھوں کی بینائی سے محروم کرنے کی سخت مذمت کی گئی۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر کے حوالے سے قراردادوں اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے وعدوں پر عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے منصوبہ بندی سے کشمیریوں کے قتل عام کو روکنا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں مسلم کشمیری اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے بھارت کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔








