اقوام متحدہ۔28ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے غیر رسمی اجلاس میں پاکستان میں گزشتہ سال سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اس حوالے سے گزشتہ سال منظور کی جانے والی قرارداد پر عمل درآمد کا جائزہ …
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا غیر رسمی اجلاس،پاکستان میں سیلاب کی تباہی سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار
مزید خبریں
اقوام متحدہ۔28ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے غیر رسمی اجلاس میں پاکستان میں گزشتہ سال سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اس حوالے سے گزشتہ سال منظور کی جانے والی قرارداد پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا
جس میں عالمی برادری سے امداد میں اضافہ کرنے اور ملک کی طویل مدتی بحالی کے لیے سیاسی عزم کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش ، اہم ممالک کے نمائندوں نے گزشتہ روز پاکستان کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب سے پاکستان کا ایک تہائی رقبہ زیر آب آگیا تھا، بہت سے علاقوں سے اگرچہ سیلاب کا پانی اتر چکا ہے لیکن متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے پاکستان کی ضروریات بدستور موجود ہیں۔
اجلاس میں منظور کی جانے والی قرار داد میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجہ میں آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔پاکستان میں اس سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے،1,700 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے اورتقریباً 80 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، جن میں سے بہت سے لوگ اب بھی خیموں اور عارضی گھروں میں رہ رہے ہیں۔
اجلاس سے خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم یہاں پاکستانی عوام کے لیے جمع ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگست 2022 میں پاکستان کے دورے کے دوران انہوں نے سیلاب سے ہونے والے نقصان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ انہوں نے دیکھا کہ انسانی زندگیاں، گھر، ذریعہ معاش، سکول، ہسپتال سب ختم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان کو کبھی نہیں بھول سکتے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ جنوری میں امیر ممالک کی طرف سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے پاکستان کو 9 ارب ڈالر جن میں زیادہ تر قرضوں کی شکل میں فراہم کرنے کے وعدے کئے گئے تھے تاہم پاکستان بدستور اس میں سے زیادہ تر فنڈنگ کا اب بھی انتظار کر رہا ہے اور فنڈز کی فراہمی میں تاخیر متاثرین سیلاب کی بحالی اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انتونیوگوترش نے کہا کہ سیلاب کے بعد سب سے پہلے پاکستانیوں نے ایک دوسرے کی مدد کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اس وقت ان کے ساتھ کھڑی تھی۔انہوں نے کہا کہ اب تک اقوام متحدہ کی 816 ملین ڈالر کی فوری امداد اور تحفظ کی اپیل میں سے 69 فیصد فنڈز فراہم کر دیئے گئے ہیں، یہ رقم پاکستان کے فلڈ رسپانس پلان کے لیے مانگی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ متاثرین سیلاب کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے پاکستان کی جدو جہد میں عالمی برادری کا تعاون ماحولیاتی انصاف کے لئے لٹمس ٹیسٹ ہے۔پاکستان کو عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر حمایت کی ضرورت ہے اور وہ اس کا مستحق ہے۔ عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود، پاکستانی عوام کو موسمیاتی اثرات سے مرنے کے 15 گنا زیادہ خطرے کا سامنا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے میں ہمارے فرسودہ اور غیر منصفانہ عالمی مالیاتی نظام کا دوہرا شکار ہے کیونکہ یہ نظام درمیانی آمدنی والے ممالک کو موافقت اور لچک میں سرمایہ کاری کے لیے انتہائی ضروری وسائل تک رسائی سے روکتا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیلاب کے بعد ہر طرح سے پاکستانی عوام کا ساتھ دیا ۔
انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا اور متاثرہ افراد کی عیادت کی،سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد پاکستان کے لئے ہنگامی امداد کی اپیل کی اور اس مقصد کے لئے امداد دینے والے ممالک کو متحرک کیا اور پھر پاکستان اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ اس سلسلہ میں مل کر کام کیا۔ ان شراکت داروں میں ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپی یونین، یو این ڈی پی اور ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر شامل تھے جنہوں نے تشخیص ، لچکدار بحالی، بحالی اور تعمیر نو کا فریم ورک فور آر ایف منصوبہ تیار کیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کی طرف سے اظہار یکجہتی اور حمایت کے لیے شکر گزار ہے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے فوری بعد یو این آفس فار دی کوآرڈینیشن آف ہیومینٹیرین افیئرز کا ایمرجنسی رسپانس فنڈ پاکستان کے لئے بہت اہم تھا۔
اس فلڈ رسپانس پلان کو 816 ملین ڈالر کی درخواست میں سے 69 فیصدیعنی 563 ملین ڈالر موصول ہو چکے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس کی مکمل فنڈنگ ہو جائے گی۔پاکستانی مندوب نے شرکا کو بتایا کہ منصوبے کے بروقت نفاذ اور نگرانی کے لیے میکانزم قائم کیے گئے ہیں جن میں پالیسی اور حکمت عملی کمیٹی، اور نگرانی بورڈ، اور بحالی اور تعمیر نو پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ؛ اور انوسٹمنٹ پارٹنرز سپورٹ گروپ شامل ہیں۔اس پلان پر عمل درآمد جاری ہے۔
سندھ، سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ، جس نے ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی فنڈنگ اور اپنے وسائل سے ایک کثیر جہتی تعمیر نو کی حکمت عملی شروع کی ہے، جس میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر نو، بحالی، پانی اور زراعت کی تبدیلی کا منصوبہ شامل ہے اور مربوط صحت اور خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تحفظ کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے منصوبے بھی اس میں شامل ہیں۔
جنیوا کانفرنس میں پاکستان کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے فور آر ایف پلان کے تحت 16.3 ارب ڈالر کی فراہمی کے وعدے کئے گے تھے ۔ اس میں تعمیر نو میں خاص طور پر پانی اور آبپاشی ، سڑکوں ،ریل کی نقل و حمل میں، 13.5 ارب ڈالر کی لاگت کے منصوبوں کے لئے فنڈز کی فراہمی بھی شامل تھی۔








