بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو بیرون ملک علاج کے لیے جانے سے روک دیا گیا

ڈھاکہ۔2اکتوبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کی حکومت نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے،فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈھاکا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون انیس الحق نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کی درخواست مسترد کر دی ہے اور جیل سے رہائی کے ایگزیکٹیو آرڈر نے انہیں سیاست میں حصہ لینے اور …

ڈھاکہ۔2اکتوبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کی حکومت نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے،فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈھاکا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون انیس الحق نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کی درخواست مسترد کر دی ہے اور جیل سے رہائی کے ایگزیکٹیو آرڈر نے انہیں سیاست میں حصہ لینے اور طبی دیکھ بھال کے لیے بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے۔

سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)کے وکیل قیصر کمال نے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 78 سالہ سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے سے روکنا سیاسی انتقام ہے۔جنوری کے آخر میں بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہوں گے۔ کئی مغربی حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک میں سیاسی ماحول پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔2008 میں خالدہ ضیا کو کرپشن کے الزام میں 17 برس قید کی سزا ہوئی تھی۔ گھر پر نظر بند ہونے سے قبل انہوں نے دو سال جیل میں گزارے۔

انہوں نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔سابق وزیراعظم کے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگست کے اوائل سے خالدہ ضیا جگر کی بیماری، سانس لینے میں دشواری اور ذیابیطس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہیں اور ان کو دل کی بیماری، جوڑوں اور گھٹنے میں بھی تکلیف ہے۔گذشتہ ماہ خالدہ ضیا کے خاندان نے حکومت کو ایک خط لکھا تھا جس میں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اپیل کی گئی تھی۔