اسرائیل کا غزہ میں زمینی فوجی کارروائی کا اعلان ، تین لاکھ ریزرو فوجی سرحد پر جمع کر لئے

اسرائیل کا غزہ میں زمینی فوجی کارروائی کا اعلان ، تین لاکھ ریزرو فوجی سرحد پر جمع کر لئے

تل ابیب، غزہ ۔11اکتوبر (اے پی پی): اسرائیل نےگزشتہ 5 دنوں سے جاری فضائی حملوں کے بعد اب غزہ میں زمینی فوجی کارروائی کا اعلان کیا ہے اور اس مقصد کے لئے تین لاکھ اسرائیلی فوجی غزہ کی سرحد پر جمع ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے پہلے ہی غزہ کا مکمل محاصرہ کر کے یہاں خوراک، پانی ، ایندھن اور دیگر اشیاء ضروریہ کی ترسیل روک رکھی ہے ۔

الجزیر اور بی بی سی کے مطابق غزہ میں حکام نے کہا ہے کہ علاقے کو بجلی فراہم کرنے والے بجلی گھر میں چند گھنٹوں کا ایندھن باقی رہ گیا ہے جس کے بعد اس بجلی گھر سے بجلی کی پیداوار مکمل طور پر بند ہو جائے گی اور پورا علاقہ رات کے وقت اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔ حکام کے مطابق اس وقت غزہ میں بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور یہاں کے لاکھوںمکینوں کو بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی نہیں ۔

غزہ کے ہسپتال میں بجلی فراہم کرنےوالے جنریٹرز کے لئے بھی ایک دن سے کم مدت کا ایندھن باقی رہ گیا ہے جس کے بعد ہسپتال میں زیرعلاج ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔اسرائیلی مسلح افواج کے ترجمان جوناتھی کونریکس نے تین لاکھ ریزرو فوجیوں کے غزہ کی سرحد پر جمع ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے بیت ہانون میں گزشتہ رات کے دوران 80ا ہداف اور الفرقان میں 200 اہداف کوفضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی کےدوران علاقے میں حماس کو فنڈز کی ترسیل میں استعمال ہونے والے دو بینکوں، حماس کے دو آپریشنل کمانڈ سینٹرز، ایک زیر زمین سرنگ اور غزہ کی فضائی حدود میں طیاروں کی نشاندہی کرنے والے مرکز کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔

اسرائیلی فوج نے کہاہے کہ غزہ میں جنگ میں بہت تیزی لائی جائے گی اور وہاں اس قدر تباہی ہو گی کہ لوگ اس کے مناظر دیکھنے کی تاب نہ لا سکیں گے۔ امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ کے مکینوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لئے اسرائیل اور مصر کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

ادھر مغربی کنارے میں مقیم ہزاروں فلسطینیوں نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔انہوں نے فلسطینی پرچم اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھی۔