اسرائیل نے غزہ حملوں میں سفید فاسفورس ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے، ہیومن رائٹس واچ

اسرائیل نے غزہ حملوں میں سفید فاسفورس ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے، ہیومن رائٹس واچ

نیویارک سٹی۔13اکتوبر (اے پی پی): انسانی حقوق کے عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان میں فوجی کارروائیوں کے دوران سفید فاسفورس کا استعمال کیا گیا، جس سے شہریوں کو صحت کے سنگین اور طویل مدتی خطرات لاحق ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے لبنان اور غزہ میں بالترتیب 10 اور 11 اکتوبر 2023 کو لی گئی ویڈیوزکی تصدیق کی، جن میں غزہ سٹی کی بندرگاہ اور اسرائیلی سرحد کے ساتھ لبنان کے2دیہی علاقوں پر فائر کیے گئے سفید فاسفورس کے متعدد دھماکے دکھائے گئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اس کے ساتھ ساتھ2 ایسے لوگوں کا انٹرویو کیا جنہوں نے غزہ میں ہونے والے حملے کو بیان کیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی ڈائریکٹر لاما فقيه نے کہا ہے کہ جب پرہجوم شہری علاقوں میں سفید فاسفورس کا استعمال کیا جاتا ہے اس سے شدید جلنے کے زخم اور عمر بھر کی تکلیف کا خطرہ ہوتا ہے۔ سفید فاسفورس کا استعمال آبادی والے شہری علاقوں میں غیر قانونی ہے، جہاں یہ گھروں کو جلا سکتا ہے اور شہریوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سفید فاسفورس شدید آتشزدگی جیسا اثر رکھتا ہے، جو لوگوں ، بنیادی ڈھانچے، کھیتوں اور دیگر شہری املاک کو جلا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں سفید فاسفورس کا استعمال شہریوں کے لیے خطرے کو مزید بڑھاتا ہے اس لیے یہ عمل شہریوں کو غیر ضروری خطرے میں ڈالنے سے متعلق بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے 11 اکتوبر کو غزہ شہر کے المینہ علاقے سے فون پر2 لوگوں کا انٹرویو کیا، جنہوں نے اسرائیلی فضائی حملوں میں سفید فاسفورس کے استعمال کی تصدیق کی۔ ایچ آر ڈبلیو کے مطابق دونوں افراد نے دھماکوں سے پہلے آسمان میں ان فضائی حملوں کو بیان کیا، جس کے بعد انہوں نے زمین کی جانب بڑھنے والی سفید لکیروں کو بیان کیا۔

انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ حملہ صبح 11:30 سے ایک بجے کے درمیان ہوا تھا۔ دونوں نے کہا کہ حملے کے بعد فضا میں (فاسفورس ) کی شدید بدبو پھیل گئی تھی یہ بدبو اتنی شدید تھی کہ اپنے دفتر میں موجود شخص نے بتایا وہ (سانس لینے کے لیے) کھڑکی کی طرف بھاگے اور پھر حملے کی فلم بندی کی۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق انہوں نے اس ویڈیو کا جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ اسے غزہ شہر کی بندرگاہ سے فلم بند کیا گیا تھا اور اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے گولے اور بارود 155 ملی میٹر کے سفید فاسفورس آرٹلری پروجیکٹائل تھے۔

ہیومن رائٹس واچ نے 10 اکتوبر کو اسرائیل لبنان سرحد کے قریب2 مقامات سے لی گئی دو ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا۔ ہر ایک حملے میں 155 ملی میٹر سفید فاسفورس آرٹلری پروجیکٹائل کو دیکھا جا سکتا ہے۔