غزہ اور خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 71 فلسطینی شہید

غزہ اور خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 71 فلسطینی شہید

غزہ۔17اکتوبر (اے پی پی): غزہ اور خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 71 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں اور اسرائیلی فوج کی طرف سے شمالی غزہ کے10 لاکھ سے زیادہ مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کے الٹی میٹم کے بعد ہزاروں فلسطینی غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع رفح کراسنگ پر جمع ہیں تاہم اسرائیل کی طرف سے عدم تعاون کے باعث یہ راہداری ابھی تک نہیں کھولی جا سکی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور ان کے برطانوی ہم منصب جیمز کلیورلی نے کہا ہے کہ وہ رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے لیے اسرائیل، مصر اور خطے کی دیگر ممالک کے حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ نے کہا کہ رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔مصری حکام نے اس سلسلہ میں اسرائیل پر عدم تعاون کا الزام عائد کرے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ پر فضائی حملے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے غزہ سے باہر جانے والے تمام راستے بند ہیں۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے غزہ کی ناکہ بندی کا حکم دیا تھا اور پانی، خوراک اور ایندھن کی سپلائی منقطع کر دی تھی۔ پیر کو جنگ بندی کی اطلاعات پر غزہ کے ہزاروں مکین باہر جانے کے لئے رفح کراسنگ پر جمع ہو گئے تاہم اسرائیلی وزیر اعظم اور حماس دونوں نے جنگ بندی کی تردید کی جس کے بعد یہ لوگ ابھی تک رفح کراسنگ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ کراسنگ غزہ سے نکلنے کا واحد ممکنہ راستہ ہے لیکن اسرائیل نے غزہ پر اپنی فضائی مہم شروع کرنے کے بعد سے رفح کراسنگ پوائنٹ کے آس پاس کے علاقے کو کم از کم تین بار نشانہ بنایا ہے۔

اس کے علاوہ ایندھن اور امدادی سامان لے جانے والی گاڑیاں رفح کراسنگ کے قریب مصر میں موجود ہیں اور غزہ میں داخل ہونے کی اجازت کی منتظر ہیں۔امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو رفح کراسنگ کی طرف جانے کی سفارش کی ہے، جو اسے دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔اگرچہ مصر غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والوں کو باہر جانے اور انسانی امداد کی اجازت دینے کے لیے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، لیکن اسے جنگ سے فرار ہونے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کا خدشہ ہے۔

مصر اور دیگر عرب ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہوگا کیونکہ یہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے مترادف ہوگا۔دریں اثنا غزہ کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ خان یونس اور رفح میں واقع گھروں کو پیر اور منگل کی درمیانی رات اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں مزید 71 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں ۔

مزید خبریں