او آئی سی کا فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کو روکنے ، غزہ کا محاصرہ فوری ختم کرنے اور عالمی برادری سےگھنائونے جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر اسرائیل کوجوابدہ بنانے کا مطالبہ

جدہ ۔18اکتوبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کو فوری طور پر روکنے اور غزہ پر مسلط محاصرے کو فوری طور پر ختم کرنے اور عالمی برادری سے گھنائونے جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر اسرائیل کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کو وزرائے خارجہ کی سطح پر او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی …

جدہ ۔18اکتوبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کو فوری طور پر روکنے اور غزہ پر مسلط محاصرے کو فوری طور پر ختم کرنے اور عالمی برادری سے گھنائونے جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر اسرائیل کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کو وزرائے خارجہ کی سطح پر او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس کے بعد جاری کئے گئے اعلامیہ میں او آئی سی نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد، ادویات، پانی اور بجلی فراہم کریں اور ضروری امداد کی بحفاظت فراہمی کے لئے انسانی راہداری کھول دیں۔

او آئی سی نے غزہ میں الا ہلی ہسپتال کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی جس میں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ او آئی سی نے کہا کہ یہ جنگی جرم نسل کشی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ او آئی سی ے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف ان گھناؤ نے جنگی جرائم پراسرائیل کو جوابدہ بنائے ۔

و آئی سی کے خبر رساں ادارے یو این اے کے مطابق ایگزیکٹو کمیٹی نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ فوجیکارروائیوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا کوئ بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔کمیٹی نے تمام ممالک سے پرزور اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی کے بنیاد پر غزہ کے مکینوں کو فوری طور پر طبی اور دیگر امداد فراہم کریں، اس مقصد کے لئے بند راستے کھولے جائیں اور وہان پانی اور بجلی کی فراہمی فری بحال کی جائے۔

کمیٹی نے اس مقصد کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں خاص طور پر فلسطنی پناہ گزینوں کے لئے کام کرنے والے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ذریعے غزہ میں امدادی کارروائیوں کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے فوجی کارروائیوں میں سویلین آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور فلسطینیوں کو اجتماعی سزا کی پالیسی پر مسلسل عمل درآمد کے خطرات سے آگاہ کیا اور ان اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔

ایگزیکٹو کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن ، سلامتی اور استحکام کا حصول اسرائیل کی طرف سے فلسطنیی زمینوں پر نوآبادتی طرز پر قبضے اور فلسطینی عوام کے خلاف جابرانہ اقدامات کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔ ایگریکٹو کمیٹی کے مطابق خطے میں امن سلامتی اور استحکام کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ فلسطنینی شہریوں کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی جواز رکھنے والی قرار دادوں کے مطابق ان کے ناقابل تنسیخ حق ، حق خود ارادیت، خودمختاری، اپنے علاقوں میں واپسی سمیت تمام حقوق دیئے جائیں۔

مزید خبریں